وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال آج (جمعہ) بیجنگ میں ہونے والے پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کے 14ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
اس اہم اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جس کا بنیادی محور نوجوانوں کی صلاحیتوں کا فروغ، مہارتوں کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ہوگا۔ اس مرحلے میں برآمدات کو معیشت کی محرک قوت کے طور پر پیش کیا جائے گا، جب کہ عوام کو ترقیاتی عمل کا مرکز و محور بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے اس فورم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جے سی سی سی پیک کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز باڈی ہے، جہاں جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور تعاون کے نئے شعبے ایجنڈے میں شامل کیے جائیں گے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق احسن اقبال نے جے سی سی کے 14ویں اجلاس کو تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس سی پیک کے دوسرے مرحلے کے باضابطہ آغاز اور اسے خوشحالی کی حقیقی عوامی راہداری میں ڈھالنے کی بنیاد فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو صرف ایک انفرااسٹرکچر پروگرام نہیں، بلکہ ایک عوام دوست منصوبہ ہے جو ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے اور پاکستان کی عالمی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس مرحلے کا مقصد پاکستان کی معیشت کے سافٹ ویئر یعنی انسانی وسائل کو مضبوط بنانا ہے، جو قوم کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین اپنی تاریخی شراکت داری کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور امید کی علامت بن چکی ہے۔






















Comments
Comments are closed.