امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو متعدد مسلم ممالک کے رہنماؤں اور حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں غزہ کی صورتحال زیر بحث آئے گی جہاں واشنگٹن کے قریبی اتحادی اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے پیر کو بتایا کہ ٹرمپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ کثیرالجہتی ملاقات کریں گے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس کے مطابق، ٹرمپ اجلاس میں غزہ کے لیے جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی انخلا اور جنگ کے بعد کے انتظامی ڈھانچے پر تجاویز پیش کریں گے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ میں اپنی فوجی موجودگی کے ذریعے اسرائیل کے انخلا کو ممکن بنائیں اور تعمیر نو و عبوری مالی امداد کی ذمہ داری بھی اٹھائیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں درجنوں عالمی رہنماؤں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کی۔ یہ اقدام غزہ جنگ کے دو برس بعد ایک اہم سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام انتہا پسندی کے لیے انعام ہوگا۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید اور پورا غزہ بے گھر ہو چکا ہے، جب کہ قحط کی صورتحال نے عالمی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ متعدد ماہرین اور اقوام متحدہ کی تحقیقات کے مطابق یہ کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں، تاہم اسرائیل انہیں اپنی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں غزہ جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر اقتدار سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد بھی کوئی حل سامنے نہیں آ سکا۔ فروری میں ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول اور فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کی تجویز دی تھی، جسے ماہرین اور اقوام متحدہ نے نسلی کشی کا منصوبہ قرار دیا۔

























Comments
Comments are closed.