سری لنکا میں اگست کے دوران صارف قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو جولائی میں 0.7 فیصد رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار پیر کو محکمہ شماریات نے جاری کیے۔
تین برس قبل شدید زرمبادلہ بحران کا شکار ہونے کے بعد سری لنکا کی معیشت میں تیزی سے بہتری آئی ہے اور گزشتہ برس 5 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ افراطِ زر بھی گزشتہ دو برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے جس کے نتیجے میں شرح سود میں بتدریج کمی ممکن ہوئی۔ نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس، جو خوردہ قیمتوں میں عمومی مہنگائی کو ظاہر کرتا ہے، ہر ماہ تین ہفتے کی تاخیر سے جاری کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خوراک کی سالانہ مہنگائی اگست میں بڑھ کر 2.9 فیصد ہوگئی جو جولائی میں 2.2 فیصد تھی، جبکہ نان فوڈ کیٹیگری میں اگست کے دوران 0.4 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ جولائی میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک بدھ کو شرح سود کو جوں کا توں رکھنے کا فیصلہ کر سکتا ہے،تاکہ آئندہ بجٹ اور معاشی نمو کے مزید اشاروں کا جائزہ لیا جا سکے۔ فرسٹ کیپیٹل ریسرچ کے سربراہ دیمانتا میتھیو کے مطابق افراطِ زر مستحکم ہوچکا ہے، تاہم گزشتہ برس کی کم بنیاد کے باعث اگست میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رواں سال کے اختتام تک افراطِ زر تقریباً 2 فیصد پر رہے گا جبکہ مرکزی بینک کا 5 فیصد کا ہدف 2026 کے وسط میں حاصل ہونے کا امکان ہے۔ صدر اور وزیر خزانہ انورا کمارا دسانائیکے 7 نومبر کو بجٹ پیش کریں گے جس میں ریکارڈ ترقیاتی اخراجات متوقع ہیں۔ حکومت 2026 میں شرح نمو کو 6 فیصد تک لے جانے کی کوشش کرے گی جبکہ رواں برس 4 سے 4.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔























Comments
Comments are closed.