کریم کے سابق ایم ڈی جنید اقبال نے دبئی میں کاروان میڈیا کی بنیاد کیسے رکھی؟
- جی سی سی کے سامنے ایک موقع اور چیلنج دونوں ہیں۔ اس کے پاس مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ دنیا نے ابھی تک اسے سمجھا ہی نہیں، جنید اقبال
کچھ معنوں میں کریِم کے سابقہ مینیجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال کی زندگی ایک طرح سے مکمل دائرہ بناتی ہے: نیوز چینلز میں کام کرنے کے بعد، جن میں سی این بی سی پاکستان پر دو سال بھی شامل ہیں، انہوں نے تقریباً دو دہائیاں کارپوریٹ دنیا میں گزاریں اور پھر دبئی میں کاروان میڈیا کی بنیاد رکھی۔
کمپنی کی پہلی پروڈکٹ کا نام پاکستان اینڈ کائونٹنگ ہے، جو اس وقت ایسے ویڈیوز بنا رہی ہے جن کی میزبانی خود جنید اقبال کر رہے ہیں اور یہ ویڈیوز پاکستان کی غیر استعمال شدہ معاشی صلاحیت جیسے کہ آم، زیتون کے تیل اور پنیر کے حوالے سے مسائل پر مبنی ہیں۔
انہوں نے عاصمہ مصطفیٰ کو آج نیوز کے پروگرام ان دی ایرینا (جو جمعرات کی شام نشر ہوا) میں بتایا کہ 2004، 2005 میں، جب میں میڈیا میں تھا، تو تین فل ٹائم بزنس چینلز تھے۔ آج، جب معیشت کو مکالمے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تو کوئی بھی نہیں۔ اس لیے ہم نے کہا، آئیے ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی پروڈکٹ پاکستان سے متعلق ہے اور ہم جلد ہی ایک اور چیز لانچ کر رہے ہیں جو سعودی عرب پر مرکوز ہوگی۔ اس کا نام ہوگا ‘ہائو ٹو سعودی’۔ تو اس طرح کچھ پروڈکٹس جغرافیائی لحاظ سے مرکوز ہوں گی، اور پھر کچھ فنکشنل فوکسڈ مواد کی پروڈکٹس بھی ہوں گی۔
کریِم کے دور کے بعد اور کاروان میڈیا سے پہلے، اقبال نے سالٹ وینچرز قائم کی، جو دبئی میں ہی قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرتا ہوں۔ فِن ٹیک سے لے کر کنسٹرکشن ٹیک، ٹرانسپورٹ ٹیک، ریٹیل آٹومیشن ٹیک، خواتین کی صحت اور ‘لائف ایڈمن’ ٹیک تک سب میں۔
تو پھر انہوں نے دبئی کو اپنا مرکز کیوں چنا؟
انہوں نے کہا لہ جی سی سی ایک موقع اور چیلنج دونوں رکھتا ہے۔ اس کے پاس اتنے زیادہ مواقع ہیں کہ دنیا نے ابھی تک اسے سمجھا ہی نہیں۔ ہم نے کاروان میڈیا کو ایک علم پر مبنی میڈیا بزنس کے طور پر قائم کیا ہے، جو ٹیکنالوجی، بزنس اور معیشت پر مرکوز ہے۔ اور یہ پورے ایم ای این اے ریجن کو دنیا میں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر دیکھتا ہے۔
جی سی سی ایک حیران کن رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ دنیا کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ٹیلنٹ کا مرکز، سرمایہ کا مرکز، اور دراصل جدت کا مرکز۔ ایمریٹس ایئر لائن اس کی پہلی مثال تھی، مگر اب مزید مثالیں سامنے آنے لگی ہیں۔
تو جب ہم مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (ایم ای این اے پی) کو دیکھتے ہیں، تو یہ دنیا کے سب سے دلچسپ اور پرجوش خطوں میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔ اور جو کردار دبئی اور ریاض ادا کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا بھر سے ٹیلنٹ اور سرمایہ کو باآسانی تعاون کے قابل بنا دیا ہے۔
کاروان میں، ہم اس خطے کے عروج کی ایک چھوٹی سی فعال تہہ بننا چاہتے ہیں۔
ایک میزبان سے ان دی ایرینا میں آنے تک
یہ سمجھنے کے لیے کہ جنید اقبال کو پاکستان کی معیشت پر اتنی گہری بصیرت کیسے حاصل ہوئی، جو انہیں موجودہ مواد تیار کرنے کے قابل بناتی ہے، صرف ان کے کیریئر کے سفر پر نظر ڈالنا کافی ہے۔
سی این بی سی میں اپنے دور کے دوران، جہاں وہ ‘پاور لنچ’ کے میزبان تھے، جنید اقبال نے امریکہ جانے اور ایم بی اے کرنے کا سوچا، مگر ان کے ایک دوست نے نشاندہی کی کہ وہ اصل میں پہلے ہی یہ کام پیسے لے کر کر رہے ہیں۔
انہوں نے مجھ سے کہا کہ ایم بی اے میں کیا سکھایا جاتا ہے؟ نیٹ ورکنگ اور کیس اسٹڈیز۔ اور تم سی این بی سی میں کیا کر رہے ہو؟ ہر بار جب کوئی سی ای او تمہارے شو میں آتا ہے، تو تم ان کے تمام مالیاتی امور کا تجزیہ کرتے ہو، تم حقیقتاً ان کے ساتھ آمنے سامنے ہوتے ہو اور وہ تمہارا احترام کرتے ہیں کیونکہ تم اتنی تیاری کے ساتھ آتے ہو۔
تو پھر تم کیوں اپنی دو سال کی زندگی اور چند لاکھ ڈالر اس پر خرچ کرو گے؟
اور بالکل یہی تجربہ جنید اقبال کے پہلے وینچر بی ایم اے فنانشل سروسز لمیٹڈ کے آغاز کا سبب بنا، جو پاکستان کی نمایاں مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی بی ایم اے کیپیٹل کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں روز سی او ای اوز سے ملاقات کرتا تھا۔ مجھے اس بات میں بہت دلچسپی تھی کہ وہ اپنی کمپنیوں کو کیسے چلاتے ہیں۔ مگر میں نے سوچا، وہی لوگ تو حقیقت میں میدان میں ہیں اور میں تو صرف ایک تبصرہ نگار ہوں۔
جب شو ختم ہو جاتا، تو جنید اقبال ایگزیکٹوز کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ چائے پیتے، ان سے بے شمار سوالات کرتے، اور انہیں بتاتے کہ وہ اپنی ایک وینچر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اور سب نے انہیں اس کام کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
آخرکار، انہوں نے ایک بزنس پلان لکھا اور انہی لوگوں سے رابطہ کیا اور سب نے انہیں فنڈ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ زیادہ اختیارات کے باعث، آخرکار انہوں نے 2010 میں بی ایم اے کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ بی ایم اے ایک مکمل سروس فراہم کرنے والی فنانشل سروسز فرم تھی۔ یہ انویسٹمنٹ بینکنگ کرتی تھی، ریٹیل بروکریج، انسٹی ٹیوشنل بروکریج اور ایسیٹ مینجمنٹ بزنس بھی۔ اور پھر مالیاتی پروڈکٹ ڈسٹری بیوشن بزنس قائم کیا گیا، جس میں میں سی ای او کے طور پر شامل ہوا۔
جنید اقبال کے وسیع تجربے کا ایک حصہ اس حقیقت سے بھی آیا کہ بی ایم اے کی شاخیں پاکستان کے ہر جگہ موجود تھیں، جن میں ہری پور، ایبٹ آباد اور ملتان بھی شامل تھے۔
2011 میں، اقبال ایلیکسیر سیکیورٹیز میں چلے گئے جہاں، ان کے لنکڈان پروفائل کے مطابق، انہوں نے ایلیکسر کی کارپوریٹ فنانس ڈویژن کو دوبارہ شروع کیا اور 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے پرائیویٹائزیشن ٹرانزیکشنز مکمل کیے، جن میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایچ بی ایل بینک میں اپنی 40 فیصد حصص فروخت کرنا بھی شامل تھا جس کی مالیت 1.02 ارب ڈالر تھی۔ یہ ایشیائی فرنٹیئر مارکیٹس کی تاریخ کا سب سے بڑا ایکوئٹی کیپیٹل مارکیٹس ٹرانزیکشن تھا۔
یہ تمام تجربات — بہترین کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملنا، بڑے پاکستانی بزنس خاندانوں سے ملاقات، اور میڈیا کے دور سے حاصل کی گئی معیشت کی اعلیٰ سطح کی سمجھداری — سبھی نے مل کر اقبال کو وہاں پہنچایا جہاں وہ آج ہیں۔
اپنی زندگی کے منتر کے بارے میں جنید اقبال نے کہا کہ کبھی آپ کو زندگی میں بریکس ملیں گی اور آپ جس چیز کو چھوئیں گے وہ اڑان بھرے گی، اور کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آپ کی اندرونی آواز کہے کہ کچھ کرو، تو پھر ضرور کرو۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کوئی پچھتاوا ہے، تو جنید اقبال نے سادہ الفاظ میں کہا کہ میں ہرگز شکایت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.