پائی کرافٹ کی معذرت کے بعد پاکستان اور یو اے ای کا ایشیا کپ ٹاکرا شیڈول کے مطابق جاری
- پی سی بی کے ترجمان نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ میچ ایک گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوا ہے۔
متنازع میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی معذرت کے بعد پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے ٹیم کو ہوٹل سے اسٹیڈیم روانگی کی اجازت دینے کے بعد پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ایشیا کپ کا میچ شیڈول کے مطابق کھیلا جارہا ہے۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ ”ہم نے قومی ٹیم کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم روانہ ہونے کی ہدایت دے دی ہے، مزید تفصیلات جلد فراہم کی جائیں گی۔“
اجازت ملنے کے بعد قومی ٹیم اسٹیڈیم کے لیے روانہ ہو گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کی روانگی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دی۔
اس پیش رفت کا مطلب ہے کہ پاکستان وقت کے مطابق شام 7:30 بجے شروع ہونے والا میچ اب 8:30 بجے شروع ہوگا۔
پی سی بی کے ترجمان عامر میر نے اس سے قبل میڈیا کو ایک مختصر پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ میچ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث ایک گھنٹے کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
عامر میر کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اس معاملے پر سابق چیئرمینز رمیز راجہ اور نجم سیٹھی سے مشاورت کر رہے ہیں، جبکہ دبئی میں موجود آفیشلز سے بھی رابطے میں ہیں۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس فیصلے کی منظوری کس نے دی، تاہم یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ محسن نقوی اس وقت ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر بھی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کی ایشیا کپ میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا جب ٹیم نے دبئی میں ہوٹل سے گراؤنڈ روانہ ہونے سے انکار کر دیا۔
پی سی بی نے کھلاڑیوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ فیصلہ ہونے تک ہوٹل میں ہی قیام کریں، جب کہ بورڈ اپنی اگلی حکمتِ عملی پر غور کر رہا تھا۔
قومی ٹیم کو مقامی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے یو اے ای کے خلاف ”کرو یا مرو“ حیثیت رکھنے والے گروپ میچ کے لیے اسٹیڈیم روانہ ہونا تھا، جب کہ ٹاس 6 بجے مقرر تھا۔
پی سی بی کی جانب سے آدھی رات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد کو مدِنظر رکھ کر کیا جائے گا۔“
پی سی بی نے اس سے قبل ایک باضابطہ شکایت درج کروائی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے اتوار کے روز بھارت کے خلاف اہم میچ کے بعد آل راؤنڈر آغا سلمان سے رسمی مصافحہ سے جان بوجھ کر گریز کیا ہے۔
پی سی بی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدام تعصب کی عکاسی کرتا ہے، اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ پائیکرافٹ کو باقی ٹورنامنٹ کے لیے ریفری کے فرائض سے ہٹایا جائے۔ تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی، اگرچہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ طور پر پائیکرافٹ اب پاکستان کے آئندہ میچز کی نگرانی نہیں کریں گے۔
یہ واقعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا گیا ہے۔
پاکستانی کھلاڑیوں نے بطور احتجاج میچ کے بعد ہونے والی اختتامی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا جبکہ بھارت کے کپتان سریا کمار یادو نے اپنی ٹیم کی فتح بھارتی فوجیوں کے نام منسوب کر دی، جسے پی سی بی نے کھیل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی مہم نے زور پکڑ لیا ہے، جہاں شائقین پی سی بی سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بطور احتجاج ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو جائے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اس معاملے پر حکومت سے مشاورت کر رہے ہیں، مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے۔
تاہم تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود، قومی ٹیم نے منگل کے روز دبئی میں تربیتی سیشن میں حصہ لیا، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر میدان میں اترنے کو تیار ہے۔





















Comments
Comments are closed.