BR100 Decreased By (-0.09%)
BR30 Decreased By (-0.1%)
KSE100 Increased By (0.06%)
KSE30 Increased By (0.04%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 27.05 Increased By ▲ 0.07 (0.26%)
BOP 33.74 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 10.06 Increased By ▲ 0.18 (1.82%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.70 Decreased By ▼ -1.23 (-0.6%)
FABL 99.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.6%)
FCCL 53.55 Increased By ▲ 0.46 (0.87%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.56 Increased By ▲ 0.72 (2.9%)
HBL 300.50 Increased By ▲ 0.68 (0.23%)
HUBC 217.49 Increased By ▲ 0.41 (0.19%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.55 Increased By ▲ 0.24 (0.82%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -0.76 (-0.82%)
OGDC 317.84 Increased By ▲ 1.55 (0.49%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 16.54 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 299.00 Decreased By ▼ -1.24 (-0.41%)
PPL 217.70 Increased By ▲ 0.86 (0.4%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 101.07 Decreased By ▼ -0.65 (-0.64%)
SSGC 26.63 Decreased By ▼ -0.35 (-1.3%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 13.57 Increased By ▲ 0.18 (1.34%)
TRG 59.19 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
UNITY 10.17 Decreased By ▼ -0.13 (-1.26%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے کیریک (CAREC) ٹرنچ-III منصوبے (راجن پور-ڈیرہ غازی خان-ڈیرہ اسماعیل خان) میں شامل تینوں کمپنیوں ایم/ایس این ایکس سی سی ، ایم/ایس ڈائنامک کنسٹرکٹرز اور ایم/ایس رستم ایسوسی ایٹس کی بولیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ مقامی شراکت دار اوسط سالانہ ٹرن اوور کے لازمی معیار پر پورا نہیں اترے۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں این ایچ اے، اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) اور پیپرا حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ آڈیٹرز کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات غیر تصدیق شدہ، مشکوک اور ممکنہ طور پر جعلی تھے، جبکہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔

کمیٹی نے ہدایت دی کہ ای اے ڈی اور متعلقہ ادارہ (این ایچ اے) فوری طور پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آگاہ کریں کہ یہ بولیاں تکنیکی طور پر ناقابل قبول ہیں اور این ایچ اے حکام و کنٹریکٹرز کی بدنیتی کے باعث ہی ان میں ہیرا پھیری کی گئی۔ مزید برآں، تینوں کمپنیوں کو جعلی دستاویزات جمع کرانے پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ خط کی نقول وزیراعظم اور کمیٹی کو بھی بھجوائی جائیں گی۔

کمیٹی نے آڈیٹر اے بی ایم اینڈ کمپنی (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس) کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ہدایت دی، جنہوں نے بغیر معاون دستاویزات کے رپورٹ تیار کی۔ اسی طرح ثالث ظفر حسین صدیقی کے خلاف بھی مبینہ ہیرا پھیری پر کارروائی کی سفارش کی گئی۔

چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ منصوبے کی بولی کا جائزہ آڈیٹر کی رپورٹس پر مبنی تھا، جبکہ شراکت دار کمپنی این ایکس سی سی ماضی میں کئی منصوبوں میں نااہل قرار دی جا چکی ہے، جن میں 2021 کا کیریک ٹرنچ-II (شکارپور-راجن پور) اور 2022 کا یارک-ژوب منصوبہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں، 2023 میں این ایچ اے ایگزیکٹو کمیٹی نے لودھراں-ملتان منصوبہ بھی غیر کارکردگی کے باعث ختم کر دیا تھا۔

مزید برآں، کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ این ایچ اے نے ثالث کے طور پر ایسے شخص کا تقرر کیا جو ماضی میں شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ منسلک رہا ہے۔ پیپرا حکام نے وضاحت دی کہ غیر ملکی مالی معاون منصوبوں میں اگر پیپرا قواعد اور ڈونر ایجنسی کے قواعد میں تضاد ہو تو ڈونر ایجنسی کے قواعد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

کمیٹی نے ای اے ڈی اور این ایچ اے کو ہدایت دی کہ وہ سیکشن I (چکدرہ-تیمرگرہ) منصوبے اور چترال اپروچ روڈ کی بحالی سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ مزید یہ کہ شانڈور-گلگت منصوبے میں شریک کمپنیوں سے تقریباً 1.7 ارب روپے کی ٹیکس رعایت کی وصولی بھی کی جائے۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.