وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز ملک بھر میں ریکارڈ توڑ مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے تناظر میں باضابطہ طور پر ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ اجلاس کی صدارت وزیرِاعظم شہباز شریف نے کی۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی موسمی حالات نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو پانی میں ڈبو دیا ہے اور ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، جس پر ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ پنجاب کے کئی اضلاع پانی میں گھر چکے ہیں جبکہ سندھ کی طرف سیلابی ریلے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے حکام کو متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا فوری تخمینہ لگانے کی ہدایت دی اور اعلان کیا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ جلد ایک اعلیٰ سطح اجلاس بلا کر قومی روڈ میپ تشکیل دیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ چاول، مکئی، گنا اور کپاس جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اگرچہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن طویل مدتی ڈھانچاتی لچک پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک وفاقی ریسپانس کمیٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سیلاب میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ سب سے زیادہ نقصان زرعی شعبے کو پہنچا ہے۔
اجلاس میں توانائی کے حوالے سے اہم فیصلہ بھی کیا گیا جس کے تحت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو آر ایل این جی کنکشن جاری کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ گھریلو صارفین کو ایل پی جی کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد سستی گیس فراہم کی جا سکے۔
کابینہ نے پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کے مابین سہ فریقی معاہدے کی بھی توثیق کی جس کے تحت علاقائی تجارت و روابط بڑھانے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کی جائے گی۔ وزیرِاعظم نے اسے خطے کے معاشی مستقبل کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے چین کے حالیہ دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 8.5 ارب ڈالر کے معاہدے اور منصوبے طے پائے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ 26 ستمبر کو احسن اقبال بیجنگ میں سی پیک فیز ٹو کا باضابطہ آغاز کریں گے جس میں زراعت، مائننگ، بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری اور اکنامک زونز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اجلاس میں امریکی مائننگ کمپنی کے ساتھ ایف ڈبلیو او کے اشتراک سے معاہدے کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا اور فوج پر تنقید کرنے والوں کو شدید تنبیہ کی گئی۔ وزیرِاعظم نے دہشت گردی کے خلاف قربانیوں پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا۔
بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے 9 ستمبر کو دوحہ میں اسرائیلی بمباری کی مذمت کی اور قطر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.