BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

افغانستان کے مشرقی پہاڑی علاقوں میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1400 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے متاثرین کے لیے خوراک، رہائش اور طبی امداد کی فراہمی کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

اتوار کی رات افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہر میں آنے والے 6 ریکٹر کے زلزلے کے بعد منگل کو دوسرا 5.5 ریکٹر کا جھٹکا آیا جس سے ریسکیو کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

کنڑ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ احسان اللہ احسان کے مطابق ہیلی کاپٹرز کے اترنے کے قابل نہ ہونے والے مقامات پر کمانڈو فورسز کو ہوائی ذریعے سے اتارا جا رہا ہے تاکہ زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔

طالبان انتظامیہ کے مطابق زلزلے میں 1411 افراد جاں بحق، 3124 زخمی اور 5400 سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملبے میں دبے ہونے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

غریب ملک ہونے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے وسائل محدود ہیں جبکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی محدود امداد موصول ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق بارشوں سے غیر مستحکم ہونے والی زمین اور غیر معیاری تعمیرات نے زلزلے کے اثرات میں اضافہ کیا ہے۔

بین الاقوامی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کے ڈاکٹر فضل ہادی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کی تعداد زیادہ تھی جو زلزلے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

افغانستان میں ہندوکش پہاڑی سلسلے کے قریب زلزلے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں۔

Comments

Comments are closed.