BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.53 Increased By ▲ 0.33 (1.31%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.57 Increased By ▲ 2.60 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.70 Increased By ▲ 1.32 (0.62%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 322.70 Increased By ▲ 2.74 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 229.67 Increased By ▲ 1.49 (0.65%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.73 Increased By ▲ 0.55 (0.55%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.68 Increased By ▲ 0.40 (4.83%)
TPLP 8.73 Increased By ▲ 0.51 (6.2%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

افغانستان کے مشرقی پہاڑی علاقوں میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1400 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے متاثرین کے لیے خوراک، رہائش اور طبی امداد کی فراہمی کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

اتوار کی رات افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ننگرہر میں آنے والے 6 ریکٹر کے زلزلے کے بعد منگل کو دوسرا 5.5 ریکٹر کا جھٹکا آیا جس سے ریسکیو کارروائیاں متاثر ہوئیں۔

کنڑ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ احسان اللہ احسان کے مطابق ہیلی کاپٹرز کے اترنے کے قابل نہ ہونے والے مقامات پر کمانڈو فورسز کو ہوائی ذریعے سے اتارا جا رہا ہے تاکہ زخمیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔

طالبان انتظامیہ کے مطابق زلزلے میں 1411 افراد جاں بحق، 3124 زخمی اور 5400 سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملبے میں دبے ہونے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

غریب ملک ہونے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے وسائل محدود ہیں جبکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی محدود امداد موصول ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق بارشوں سے غیر مستحکم ہونے والی زمین اور غیر معیاری تعمیرات نے زلزلے کے اثرات میں اضافہ کیا ہے۔

بین الاقوامی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کے ڈاکٹر فضل ہادی کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کی تعداد زیادہ تھی جو زلزلے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

افغانستان میں ہندوکش پہاڑی سلسلے کے قریب زلزلے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جہاں انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں۔

Comments

Comments are closed.