انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا ۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 3 پیسے یا 0.01 فیصد کی بہتری سے 281.72 پر بند ہوا۔یہ مسلسل 18 واں روز ہے جب روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے۔
واضح رہے کہ 6 اگست 2025 سے روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 95 پیسے مضبوط ہوچکا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 281.75 پر بند ہوئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر نے لیبر ڈے کی تعطیل کے بعد منگل کو امریکی مارکیٹس کے دوبارہ کھلنے سے قبل کئی روزہ فروخت کے بعد ابتدائی ایشیائی تجارت میں معمولی بحالی ظاہر کی۔
ڈالر انڈیکس آخری بار 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 97.709 پر ریکارڈ کیا گیا، جو پیر کو 28 جولائی کے بعد کم ترین سطح تک گر گیا تھا، کیونکہ مسلسل پانچ دن کی گراوٹ کے بعد سرمایہ کاروں نے متبادل محفوظ اثاثوں کا رُخ کیا، جن میں سونا بھی شامل ہے جس کی قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب ٹریڈ ہورہی ہیں۔
ٹریڈرز نے امریکی ڈالر فروخت کیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فیڈرل ریزرو پر تنقید، بشمول گورنر لیزا کک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے، نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ وائٹ ہاؤس مرکزی بینک کی خودمختاری کو متاثر کر رہا ہے، ایسے وقت میں جب شرحِ سود میں کمی کا جواز ابھی واضح نہیں ہے۔
سونے کی قیمت پیر کو 21 اپریل کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مسلسل چھٹے روز اضافے کی راہ پر گامزن رہی۔ آخری اطلاعات کے مطابق سونا 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 3,482.55 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ چاندی 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 1.2 فیصد کم ہوگئی۔
ین کے مقابلے امریکی ڈالر 0.1 فیصد مضبوط ہو کر 147.33 ین پر ٹریڈ کررہا ہے اور وہی تجارتی حد برقرار رکھے ہوئے تھا جس میں وہ اگست کے آغاز سے موجود ہے۔
امریکی معیشت کے اگست کے اعدادوشمار اس ہفتے کے آخر میں توجہ کا مرکز ہوں گے کیونکہ مارکیٹ مبصرین یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا صنعتی سرگرمیوں اور لیبر مارکیٹ پر کس حد تک اثر پڑ رہا ہے۔






















Comments
Comments are closed.