ایس او ایز ایکٹ کی خلاف ورزی، وزیرِاعظم کے پرنسپل سیکرٹری شکیل منگنیجو وزیر تجارت کی نشانے پر
وزیرِاعظم کے پرنسپل سیکرٹری برائے خصوصی امور، شکیل منگنیجو، کامرس کے وفاقی وزیر جام کمال خان کے نشانے پر ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رُکن کی حیثیت سے ایس او ایز ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ شکیل منگنیجو کو سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اسد رحمان گیلانی کی برطرفی کے بعد مشیرِ وزیراعظم ڈاکٹر توقیر شاہ کی سفارش پر وزیرِاعظم کے دفتر میں اسپیشل سیکرٹری تعینات کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر برائے تجارت نے سیکرٹری کامرس، مشیرِ وزیراعظم توقیر شاہ، چیئرمین پی آر سی ایل بورڈ اور وزارتِ تجارت کے دیگر اعلیٰ حکام کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ انہیں مجبوراﹰ بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کی طرف توجہ مبذول کرانی پڑ رہی ہے جو ایس او ای ایکٹ اور وزیراعظم آفس کی ہدایات کے برعکس پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ (پی آر سی ایل) کے معاملات میں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق زبانی اور تحریری طور پر متعدد بار ہدایات دینے کے باوجود معاملہ حل نہیں کیا گیا۔
جام کمال کے مطابق وزیراعظم آفس نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ ایس او ایز ایکٹ کے تحت سرکاری اداروں، ان کے بورڈز اور ممبران کی کارکردگی کی نگرانی اور جانچ پڑتال متعلقہ وزرا کریں گے۔ مزید یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزارتوں کی نمائندگی کرنے والے ایکس آفیشو ممبران بورڈ میٹنگز میں شرکت سے پہلے اپنے متعلقہ وزیر سے پالیسی رہنمائی اور ہدایات حاصل کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کے معاملے میں ایکس آفیشو رکن نے ہمیشہ وزارت سے مشاورت کرکے ہدایات حاصل کرنے کے بعد بورڈ کے مباحثوں میں حصہ لیا ہے۔ تاہم پی آر سی ایل کے معاملے میں وزارت کی نمائندگی اُس وقت کے اسپیشل سیکرٹری کامرس شکیل منگنیجو کر رہے تھے۔ نہ صرف انہوں نے اُس وقت لازمی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا بلکہ وزیراعظم آفس میں تبادلے کے بعد بھی انہوں نے پی آر سی ایل کی 15 سے زائد بورڈ اور سب کمیٹی میٹنگز میں شرکت جاری رکھی، جو کہ وزیراعظم آفس کی ہدایات اور ایس او ایز ایکٹ کی روح کے خلاف ہے۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ انہوں نے واضح طور پر ہدایت کی تھی کہ پی آر سی ایل کے ایکس آفیشو عہدے پر وزارتِ تجارت کے سب سے سینئر افسر کو تعینات کیا جائے تاکہ جواب دہی، درست مشاورت اور مؤثر پالیسی رہنمائی یقینی بنائی جا سکے۔ بار بار یاد دہانیوں کے باوجود اس ضمن میں مطلوبہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
جام کمال کے مطابق شکیل منگنیجو کی جانب سے وزارت سے مشاورت یا منظوری کے بغیر پی آر سی ایل کی میٹنگز میں شرکت کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس دوران پیش کیے گئے فیصلے، تجاویز یا آراء صرف ان کی ذاتی رائے سمجھی جائیں گی، وزارتِ تجارت کی پالیسی نہیں۔ انہوں نے پی آر سی ایل بورڈ کو ہدایت کی کہ شکیل منگنیجو کی طرف سے دی گئی کسی بھی تجویز یا فیصلے پر عمل نہ کیا جائے بلکہ ان تمام معاملات کو وزارتِ تجارت کے پاس دوبارہ جائزے اور منظوری کے لیے بھیجا جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پی آر سی ایل بورڈ میں ایکس آفیشو عہدہ فوری طور پر وزارتِ تجارت کے سب سے سینئر افسر کو دیا جائے اور شکیل منگنیجو کی زیرِصدارت ہونے والی تمام سابقہ میٹنگز کو کالعدم قرار دیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.