BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

چین کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تیز رفتار پھیلاؤ اور جدیدیت کے عمل پر امریکی فوجی حکام اور اسلحہ کنٹرول ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر جنرل انتھونی کاٹن نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی یہ ہدایت کہ چین کی فوج کو 2027 تک تائیوان پر قبضے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جوہری صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اسلحہ زمین، فضا اور سمندر سے داغے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چین اپنی قومی دفاعی پالیسی میں دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور غیر جوہری ممالک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ بیجنگ کی وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ ایٹمی جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور نہ ہی لڑی جانی چاہیے۔ تاہم پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق چین اپنی حکمتِ عملی میں ایسے حالات شامل رکھتا ہے جن میں روایتی حملے اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یا جوہری صلاحیت کو خطرے میں ڈالیں تو وہ پہلا جوہری حملہ بھی کر سکتا ہے۔

بیجنگ نے کہا ہے کہ چین سے متعلق ”ایٹمی خطرے“ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دراصل بدنام کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ بولیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق چین کے پاس اس وقت تقریباً 600 جوہری ہتھیار ہیں، اور وہ 350 سے زائد نئے میزائل سائلوز اور موبائل لانچر بیسز بنا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی کے پاس 712 لانچر ہیں جن میں سے 462 ایسے ہیں جو امریکہ تک مار کرنے والے میزائل نصب کر سکتے ہیں۔

پینٹاگون کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین کے پاس 1,000 سے زائد فعال جوہری ہتھیار ہوں گے، جن میں کم طاقت والے میزائلوں سے لے کر بڑے بین البراعظمی میزائل تک شامل ہوں گے۔

Comments

Comments are closed.