گلگت بلتستان میں پاک فضائیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن، 75 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا
پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) نے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر سیلابی ریلیف آپریشن کے دوران پھنسے ہوئے 75 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔
بدھ کے روز انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بیان میں بتایا کہ کٹھن موسمی حالات اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی اے ایف کے سی-130 طیارے نے پی اے ایف بیس نور خان سے گلگت تک 7 ٹن خشک راشن، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور جان بچانے والی ادویات پہنچائیں۔
مزید کہا گیا کہ یہ سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے سیلاب زدہ دور دراز وادیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آئندہ دنوں میں پی اے ایف کے طیارے اور زمینی ٹیمیں مسلسل ریلیف آپریشن میں مصروف رہیں گی اور کمزور طبقات تک خوراک، ادویات، پناہ گاہ اور طبی امداد پہنچائیں گی۔
پی اے ایف کے بروقت اور پرعزم ردعمل نے گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں میں نئی امید پیدا کی ہے اور اس بات کی توثیق کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر آزمائش کی گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔
شدید مون سون بارشوں کے تباہ کن اثرات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کی کوششوں کو مزید تیز اور وسیع کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے سیلاب زدہ اضلاع میں کم از کم ایک ہفتے کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ متاثرین کو مالی امداد کی تقسیم سے متعلق تمام رسمی کارروائیاں فوری طور پر مکمل کی جائیں۔
این ڈی ایم اے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ سیلاب کے آغاز سے اب تک 25,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ملک بھر میں 411 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 308 صرف خیبر پختونخوا میں ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے مزید 4 ارب روپے مختص کر دیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، این ڈی ایم اے نے ملک بھر میں 10 ستمبر تک مزید شدید مون سون بارشوں کے امکانات سے خبردار کیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق، 26 جون 2025 سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران اب تک مجموعی طور پر 707 افراد جاں بحق اور 967 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات فلیش فلڈز، لینڈ سلائیڈز، مڈ سلائیڈز اور دیگر حادثات کے نتیجے میں پیش آئے۔






















Comments
Comments are closed.