خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب نے قیامت ڈھا دی، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اب تک کم از کم 313 افراد جاں بحق اور 156 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 159 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 62 مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ تاہم مقامی ذرائع اور آزاد رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی اصل تعداد 332 تک پہنچ گئی ہے۔
بارشوں سے زمین کھسکنے، سڑکیں ٹوٹنے اور دریاؤں کے طغیانی میں آنے سے پل، مکانات اور بستیاں بہہ گئیں۔ سب سے زیادہ تباہی بونیر میں ہوئی جہاں مقامی ذرائع کے مطابق 250 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جبکہ شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، باجوڑ اور سوات بھی بدترین متاثرہ اضلاع ہیں۔ صرف بونیر میں 208 اموات رپورٹ کی گئی ہیں اور متعدد دیہات ملبے تلے دب گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے سربراہ اسفندیار خٹک کے مطابق اب بھی درجنوں افراد ملبے تلے دبے یا سیلابی ریلوں میں بہے ہوئے ہیں۔ بجلی اور موبائل فون سروس معطل ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات ہیں۔ تقریباً 2,000 ریسکیو اہلکار نو اضلاع میں کام کر رہے ہیں، تاہم بارشیں اور زمین کھسکنے کے باعث ریسکیو کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بونیر کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ایک دن کے سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ہدایت دی ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے اور تمام وسائل بروئے کار لائے۔
وفاقی حکومت نے فوری طور پر 911 ایمرجنسی ہیلپ لائن کو فعال کر دیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں فوری رابطہ اور مدد فراہم کی جا سکے۔ محکمہ موسمیات نے 21 اگست تک مزید موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، خاص طور پر چترال، دیر، مانسہرہ، سوات، باجوڑ، وزیرستان، کوہستان، کرم، پشاور سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اضلاع میں مزید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دیہات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے ہیں، مکانات، دکانیں اور معمولی جمع پونجی بھی پانی میں بہہ گئی۔ اجتماعی جنازے ادا کیے جا رہے ہیں اور لوگ اپنے پیاروں کو دفنانے کے لیے گڑھے کھودتے نظر آ رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال کی مون سون بارشیں گزشتہ سال کی نسبت 50 سے 60 فیصد زیادہ شدید ہیں اور آئندہ ستمبر کے اوائل تک مزید دو سے تین اسپیل متوقع ہیں۔ 2022 کی تباہ کن بارشوں کے بعد ایک بار پھر پاکستان کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.