سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بے نامی لین دین کے مقدمات میں معاملہ ثابت کرنے کی ذمہ داری الزام لگانے والے فریق پر عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض شبہ کی بنیاد پر کسی دعوے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ معاملے کا تعین اس وقت کے حالات و واقعات، فریقین کے تعلقات، لین دین کے پس منظر، مقصد اور بعد ازاں جائیداد پر قبضے اور دستاویزات کی ملکیت جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔
جسٹس محمد علی مزہر کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ جائیداد کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والے وسائل کا ماخذ ایک اہم کسوٹی ہے مگر صرف یہ فیصلہ کن نہیں۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر شوہر نے جائیداد اپنی اہلیہ کے نام پر خریدی ہو تو یہ ان کے باہمی تعلق اور معاہدے کا حصہ ہو سکتا ہے، جسے برسوں بعد اولاد معتبر ثبوت کے بغیر چیلنج نہیں کر سکتی۔
کیس کے حقائق کے مطابق، مرحوم ناصر الدین انصاری کی بیٹیوں نے 1993 میں سول مقدمہ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد کی دو جائیدادیں کراچی کے گلشن اقبال اور نارتھ ناظم آباد میں تھیں، لیکن ان کی والدہ مسز طاہرہ بیگم محض بے نامی مالک تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ والدہ نے ایک جائیداد 1992 میں فروخت کی جبکہ دوسری اپنے بیٹے کو غیر قانونی طور پر تحفے میں دے دی، جس سے وہ اپنی وراثتی حصے سے محروم ہو گئیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے سنگل جج نے شواہد کی بنیاد پر بیٹیوں کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم ڈویژنل بینچ نے اپیل میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو تین رکنی بینچ نے یہ قرار دیا کہ برسوں بعد اولاد یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتی کہ والدہ محض ظاہری مالک تھیں جب تک کہ وہ ناقابلِ تردید اور پختہ ثبوت فراہم نہ کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025























Comments
Comments are closed.