پاکستان میں شدید سیلاب، اموات 340 سے متجاوز، امدادی کارکنوں نے مزید لاشیں نکال لیں
- وفاقی و صوبائی ادارے، مسلح افواج اور مقامی حکومتیں بھرپور کام کر رہی ہیں، اسحاق ڈار
ریسکیو اہلکار پاکستان کے شمالی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلابوں اور مٹی کے تودوں تلے دبے افراد کی لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف حادثات میں کم از کم 344 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہ بات حکام نے ہفتے کے روز بتائی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق مون سون بارشوں کے ساتویں اسپیل نے خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں شدید تباہی مچائی ہے۔ کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلابوں کے نتیجے میں متعدد اضلاع میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
زیادہ تر افراد اچانک سیلابوں اور مکانات گرنے کے باعث ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم 120 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ موجودہ مون سون سیزن میں پاکستان میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے سڑکوں اور عمارتوں کو بہا لے گئے ہیں۔
صوبائی حکومت نے بونیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹگرام کے شدید متاثرہ پہاڑی اضلاع کو آفت زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

ایک مقامی رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دنیا کا خاتمہ ہو گیا ہو، زمین پانی کی شدت سے لرز رہی تھی۔
صوبائی ریسکیو ایجنسی کے مطابق خیبرپختونخوا کے نو متاثرہ اضلاع میں تقریباً 2,000 امدادی کارکن ملبے تلے دبی لاشیں نکالنے اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں، تاہم مسلسل بارشیں امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کی ریسکیو ایجنسی کے ترجمان بلال احمد فیضی نے اے ایف پی کو بتایا کہ شدید بارش، کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کے بہہ جانے سے امدادی کارروائیوں میں غیر معمولی مشکلات درپیش ہیں، خاص طور پر بھاری مشینری اور ایمبولینسز کی ترسیل میں پریشان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر علاقوں میں سڑکیں بند ہونے کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو دور دراز کے علاقوں میں پیدل جانا پڑ رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امدادی رضاکار متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بہت کم لوگ اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں، کیونکہ یا تو ان کے رشتہ دار جاں بحق ہو چکے ہیں یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
جمعے کے روز کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارشوں نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں شدید تباہی پھیلائی۔ اچانک سیلاب، آسمانی بجلی گرنے اور زمین کٹاؤ کے واقعات نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے اور کئی مقامات پر آمد و رفت کے راستے منقطع ہو گئے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے شمال مغربی علاقوں کے لیے شدید بارشوں کا الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ طوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے 21 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے متاثرہ اضلاع کے لیے ہنگامی امدادی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امداد و بحالی کی سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بونیر کو 15 کروڑ روپے، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو 10، 10 کروڑ روپے دیے جائیں گے جبکہ سوات کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
تباہ کن مون سون سیزن
مون سون کا موسم جنوبی ایشیا میں سالانہ بارش کا تقریباً تین چوتھائی حصہ لے کر آتا ہے، جو زرعی پیداوار اور خوراک کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم، یہ موسم اکثر تباہی کا بھی پیش خیمہ بنتا ہے۔
بارش کے اس سیزن میں زمین سرکنا (لینڈ سلائیڈنگ) اور اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) معمول کی بات ہیں۔ یہ موسم عموماً جون میں شروع ہوتا ہے اور ستمبر کے آخر تک دھیرے دھیرے ختم ہو جاتا ہے۔
قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے نمائندے سید محمد طیب شاہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سال مون سون معمول سے جلد شروع ہوا اور توقع ہے کہ دیر تک جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ 15 دنوں میں مون سون کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بونیر ضلع میں جہاں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، ایک مقامی رہائشی عزیز اللہ نے کہا کہ مجھے لگا جیسے قیامت آ گئی ہو۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک زوردار شور سنا، جیسے پہاڑ سرک رہا ہو۔ میں باہر دوڑا تو دیکھا کہ پورا علاقہ ہل رہا تھا، جیسے دنیا کا خاتمہ ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زمین پانی کی طاقت سے لرز رہی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے موت میرے سامنے کھڑی ہے۔
بونیر میں ایدھی کا امدادی آپریشن
ایدھی انفارمیشن بیورو کے مطابق خیبر پختونخوا کے بونیر ضلع میں حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات کے بعد ایدھی ریسکیو اور ایمبولینس سروسز نے امدادی کارروائی انجام دی ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی ہدایات پر رضاکاروں نے اب تک 44 افراد کی لاشیں نکال کر ان کے آبائی دیہات پہنچائی ہیں، جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔ایدھی انفارمیشن ڈیسک نے بتایا ہے کہ یہ لاشیں ڈگر اسپتال بونیر اور ٹی ایچ کیو اسپتال سے ایدھی ایمبولینسز کے ذریعے منتقل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 80 متاثرین کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور تمام ریسکیو عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق صوبے کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔ تمام ریسکیو ایمرجنسی سروسز کے اہلکار اپنی اپنی پوسٹوں پر موجود رہیں گے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اضافی عملہ متاثرہ اضلاع میں بھیجا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں شانگلہ میں 36، باجوڑ میں 21، مانسہرہ میں 23، سوات میں 22 اور بٹگرام میں 15 درج کی گئیں۔ لوئر دیر میں 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے، جبکہ ایبٹ آباد میں ایک شخص ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 11 گھر مکمل طور پر تباہ، 74 نقصان زدہ اور 63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ شدید بارشیں 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر متاثرہ اضلاع میں ہنگامی ریلیف فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔
شدید متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے لیے کل 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بونیر کو 15 کروڑ روپے، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو ہر ایک کو 10 کروڑ روپے اور سوات کو 5 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
بونیر سیلاب: 44 لاشیں برآمد، 80 افراد بچائے گئے
ایدھی ریسکیو اور ایمبولینس سروسز نے بونیر میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے بعد ریسکیو آپریشن انجام دیا جس کی تصدیق ایدھی انفارمیشن بیورو نے کی ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی ہدایات پر رضاکاروں نے اب تک 44 افراد جن میں 15 بچے شامل ہیں کی لاشیں برآمد کیں۔ لاشیں ڈگر اسپتال اور ٹی ایچ کیو اسپتال سے ایڈھی ایمبولینسز کے ذریعے ان کے آبائی گاؤں منتقل کی گئیں۔ اس کے علاوہ 80 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
بیورو کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار ضلع بھر میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی مدد کر رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا اور تمام ریسکیو اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق صوبے کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشن جاری ہیں اور تمام اہلکار اسٹیشنز پر موجود رہیں گے۔
سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی عملہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔
حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے حالیہ کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں، حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وفاقی و صوبائی ادارے، مسلح افواج اور مقامی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے اور بچاؤ کی کارروائیوں کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وفاقی و صوبائی ادارے ، مسلح افواج اور مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد تک پہنچنے اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا حکومت متاثرہ علاقوں کی طویل مدتی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات کرے گی۔
نائب وزیراعظم نے اندرون و بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور جاری امدادی کارروائیوں میں ہرممکن کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فوری ضروریات کو پورا کرنے اور طویل المدتی بحالی کے منصوبے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے طے شدہ برطانیہ دورے کے دوران صرف سرکاری ملاقاتیں ہوں گی، برطانوی پاکستانیوں سے طے شدہ کمیونٹی ملاقات منسوخ کر دی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ غمزدہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی اور قومی ریلیف کوششوں پر توجہ کے لیے کیا گیا۔ تمام پاکستانی متاثرین کے لیے دعا اور امدادی کاموں میں حصہ لیں۔






















Comments
Comments are closed.