اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے پیر کو مختلف ریاستی اداروں میں مالی بدعنوانی، بشمول عدلیہ، پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کون سے ججز اس کرپشن میں ملوث ہیں۔ جسٹس محسن کیانی نے وفاقی دارالحکومت میں پٹواریوں کی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ مجھے بالکل معلوم ہے کہ اداروں میں پیسہ کیسے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ کیا ڈپٹی کمشنر کو نہیں معلوم کہ اس کے عملے میں کون بدعنوان ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں بھی اس کرپٹ نظام کا حصہ ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے کون سے ججز اس میں ملوث ہیں۔ اگر انہیں اختیار ہوتا تو وہ رشوت کو قانونی حیثیت دے دیتے۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن کیانی نے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا جو خالی پٹواری کے عہدوں پر تقرری کے متعلق تھے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور نظامی کرپشن سے حکمرانی اور عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔
عدالت کو پٹواری دفاتر میں مبینہ کرپشن اور رشوت کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ بھی جمع کروائی گئی، جس پر جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ وہ رپورٹ دیکھ چکے ہیں اور موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق، پٹواریوں نے ذاتی کلرکس مقرر کر رکھے ہیں اور رشوت خوری اور بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ریاستی وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ عدالت نے زمین کے لین دین میں قیمتوں کے تعین کے بارے میں حکم جاری کیا تھا، لیکن وہ نافذ نہیں ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر عدالت کے احکامات پر عمل کیوں نہیں کر رہے؟
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اس نظام کا حصہ ہے اور پورے دن ہونے والی کارروائیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ وہ دونوں کو عدالت میں بلا کر دو منٹ میں قانون سمجھا سکتے ہیں۔
جج نے وکیلِ استغاثہ کو بتایا کہ ان کی یقین دہانی کی بنیاد پر وہ سخت حکم جاری کرنے سے آج گریز کر رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی بنچ نے اپنے حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کی اور سماعت کو اگلے پیر تک ملتوی کر دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.