ڈنمارک نے پاکستان کے بجلی کے شعبے کے ساتھ تین سالہ اسٹریٹجک سیکٹر کوآپریشن (ایس ایس سی) پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد اہم قومی توانائی اداروں کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر یاکب لینولف کے مطابق، یہ منصوبہ ڈنمارک انرجی ایجنسی (ڈی ای اے) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور یکم جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔
یہ پروگرام پاکستان کو ایک زیادہ مؤثر اور پائیدار توانائی کے نظام میں منتقل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایس ایس سی پروگرام تین اہم شعبوں پر مرکوز ہوگا: طویل المدتی شعبہ جاتی ماڈلنگ اور منصوبہ بندی، متغیر قابلِ تجدید توانائی کا انضمام، اور صنعتی شعبے میں توانائی کی کارکردگی میں بہتری۔
شراکت داری کو باضابطہ طور پر شروع کرنے کے لیے ڈنمارک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر برائے گلوبل کوآپریشن کارل-کرسچن منک-نیلسن کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح ڈنمارک کا وفد 18 تا 22 اگست 2025 کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔
اس دورے کا مقصد متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنا، ایس ایس سی پروگرام کا تعارف کروانا اور پاکستان کی توانائی اتھارٹیز کی ساخت، اہداف اور مینڈیٹس کو بہتر طور پر سمجھنا ہے، خاص طور پر ادارہ جاتی اصلاحات کے تناظر میں۔ یہ بات چیت مستقبل کی تربیتی نشستوں اور ورکشاپس کی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔
نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نیشنل گرڈ کمپنی(این جی سی) ، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر( آئی ایس ایم او)اور انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (ای آئی ڈی ایم سی) میں تقسیم کے حوالے سے، سفیر لینولف نے کہا کہ یہ تینوں ادارے نئے ایس ایس سی پروگرام کے اہم شراکت دار تصور کیے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں، ڈنمارک کے سفارت خانے نے درخواست کی ہے کہ پاکستانی حکام وفد کی ملاقاتیں 18 اگست 2025 کو این جی سی، آئی ایس ایم او اور ای آئی ڈی ایم سی کی مینجمنٹ کے ساتھ ممکن بنائیں۔
ڈنمارک کے سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ملاقاتیں ایس ایس سی پروگرام کے مقاصد پیش کرنے اور مستقبل کے تعاون کے لیے اہم رائے حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.