ٹرمپ کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی سے بھارت پریشان، چین کیساتھ تعلقات پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے فوجی سربراہ کے ساتھ ظہرانے کی ملاقات پر بھارت نے نجی سفارتی احتجاج کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب نئی دہلی چین کے ساتھ تعلقات کو متوازن کرنے کی پالیسی پر نظرِ ثانی کررہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملاقات اور امریکہ-بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی—جو طویل عرصے سے مستحکم اور فروغ پذیر رہے ہیں—نے تجارتی مذاکرات پر منفی اثر ڈالا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ انڈو پیسفک خطے میں اپنے ایک اہم شراکت دار پر ٹیرف عائد کرنے پر غور کررہی ہے۔
بھارت نے پاکستان خصوصاً اس کی عسکری قیادت پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے اور تین اعلیٰ بھارتی سرکاری حکام کے مطابق، اس نے امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قربت حاصل کرنا غلط پیغام دینے کے مترادف ہے۔
حکام کے مطابق یہ ایک ایسا حساس معاملہ بن چکا ہے جو مستقبل میں دوطرفہ تعلقات میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایسے شدت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جو بھارتی اہداف پر حملے کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ نئی دہلی نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکہ اور بھارت کے تعلقات مضبوط ہوتے رہے ہیں، حالانکہ درمیان میں معمولی رکاوٹیں بھی آئیں، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
واشنگٹن میں قائم ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن تھنک ٹینک کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ موجودہ مسائل ان سے مختلف نوعیت کے ہیں۔
مائیکل کوگل مین نے کہا کہ جس تسلسل اور شدت کے ساتھ امریکہ پاکستان سے تعلقات استوار کررہا ہے اور بظاہر بھارت کے تحفظات کو نظرانداز کر رہا ہے، خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے حالیہ تنازع کے بعد، اس سے دوطرفہ تعلقات میں ایک قسم کی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بار تشویش کی بات یہ ہے کہ وسیع تر کشیدگی کی ایک بڑی وجہ، یعنی ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی، اب تجارتی میدان تک پھیل رہی ہے، خاص طور پر ٹیرف کے حوالے سے ان کے رویے میں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر اور بھارت کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ وزارت خارجہ اس سے قبل یہ کہہ چکی ہے کہ اُس نے ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کا نوٹس لیا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ وہ نجی سفارتی روابط پر تبصرہ نہیں کرتے اور یہ کہ امریکہ کو بھارت اور پاکستان، دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات حاصل ہیں۔
اس اہلکار نے مزید کہا یہ تعلقات اپنی انفرادی بنیادوں پر قائم ہیں اور ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کا ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کرتے۔






















Comments
Comments are closed.