پی پی آئی فریم ورک جون 2026 کے آخر تک تیار کرلیا جائیگا، پی بی ایس
پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کا فریم ورک موجودہ مالی سال کے اختتام (جون 2026 کے آخر) تک تیار کر لیا جائے گا، اور صوبوں کے تعاون سے اندرونِ خانہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یہ بات پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی 11 ستمبر 2024 کی دستاویز، جس کا عنوان تھا 2024 آرٹیکل IV مشاورت اور ایک توسیعی انتظام کی درخواست کے لیے اسٹاف رپورٹ میں نوٹ کیا کہ وہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گا کیونکہ ذرائع سے حاصل شدہ اعدادوشمار میں نمایاں خامیاں موجود ہیں جو ایسے شعبہ جات سے متعلق ہیں جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں جب کہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور اعتماد سے متعلق بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔
حکام ان خامیوں کو دور کرنے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں جس میں آئی ایم ایف کی طرف سے سرکاری مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) اور ایک نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تکنیکی معاونت شامل ہے اور پی بی ایس جلد ہی مالی سال 2026 کے لیے مجوزہ قومی حسابات (این اے) کی بنیاد کی تبدیلی سے قبل چار بڑے سرویز کے لیے فیلڈ ورک کا آغاز کرے گا۔
پی بی ایس کے ایک ذرائع کے مطابق پی پی آئی کے ذریعے قیمتوں کی پوری زنجیر — یعنی فارم گیٹ/فیکٹری گیٹ سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹس تک — ملک کے شماریاتی نظام کا حصہ بن جائے گی۔ پی پی آئی فیکٹری گیٹ یا فارم گیٹ پر پیداواری لاگت اور آخرکار صارف کی جانب سے ادا کی گئی قیمت کا تعین کرے گا، اس وقت پی بی ایس صرف مصنوعات کی تھوک اور پرچون قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے لیکن اس انڈیکس کے ذریعے فیکٹری یا فارم گیٹ پر اصل پیداواری لاگت کو بھی نوٹ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس انڈیکس کے ذریعے کسانوں کو ملنے والی پیداواری قیمت، مقامی طور پر تیار کردہ اشیاء کی فیکٹری گیٹ پر قیمت اور درآمد شدہ اشیاء کی بندرگاہ پر لاگت کی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس انڈیکس کے ذریعے حکومت کے لیے درمیانی افراد اور ذخیرہ اندوزوں کے کردار کی نشاندہی کرنا آسان ہوجائے گا۔ اگر پیداواری لاگت اور صارف کو ملنے والی قیمت کے درمیان کوئی تضاد یا غیر معمولی اضافہ یا کمی نظر آئے تو حکومت تجارتی اور ٹرانسپورٹ مارجن کی نگرانی کے ذریعے باآسانی درمیانی افراد کے کردار کا پتہ لگا سکتی ہے۔
پی بی ایس نے نیشنل اکاؤنٹس کے بنیادی سال کو 2015-16 سے تبدیل کر کے 2025-26 کرنے کا کام پہلے ہی شروع کر دیا ہے — بنیادی سال کا انتخاب پی بی ایس کی گورننگ کونسل نے کیا ہے جس نے یہ اصول طے کیا ہے کہ قومی حسابات کی بنیاد ہر دس سال بعد تبدیل کی جائے۔ پی بی ایس کے ذرائع نے مزید بتایا کہ نیا بنیادی سال 2027-28 تک نافذ کردیا جائے گا۔ نظری طور پر، بنیادی سال ایسا ہونا چاہیے جو نسبتاً پُرسکون اور مستحکم ہو۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی بی ایس نیشنل اسٹیٹسٹکل آرگنائزیشن ہے اور یہ قومی حسابات مرتب کرنے کے لیے 2008 کا نظام استعمال کرتا ہے، جو مکمل طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے اور عالمی بینک سے توثیق شدہ ہے۔
پی بی ایس جولائی 2024 میں چار بڑے سروے (جن میں مشترکہ زرعی مردم شماری، لیبر فورس سروے، اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے شامل ہیں) کے لیے فیلڈ ورک شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن کے ابتدائی نتائج مالی سال 2024-25 کے دوران دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.