وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ ملک میں زرعی زمینوں کو بلا روک ٹوک رہائشی سوسائٹیوں میں تبدیل کیا جانا پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اس رجحان کو روکنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات اور سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احسن اقبال نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں، بالخصوص شہری علاقوں کے پھیلاؤ کے باعث زرخیز زرعی زمین تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والی نسلوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس اجلاس میں وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے نمائندے اور انفرااسٹرکچر ماہرین شریک ہوئے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ زرعی زمینوں کے استعمال کی تبدیلی کے حوالے سے مؤثر ضابطے اور پالیسی اتفاق رائے قائم کیا جائے۔
انفرااسٹرکچر کے رکن وقاص انور نے اجلاس میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قانونی فریم ورک میں خلا، صوبائی سطح پر عدم مطابقت اور درست و مکمل ڈیٹا کی کمی اس مسئلے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس موقع پر زور دیا کہ اسلام آباد جیسے شہری مراکز میں اب عمودی تعمیرات (ورٹیکل کنسٹرکشن) کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ سر سبز علاقوں کا تحفظ کیا جا سکے اور شہری پھیلاؤ کے ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران رئیل اسٹیٹ ترقی کی نذر ہونے والی زرعی زمینوں کا مکمل ڈیٹا مرتب کریں۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ شہروں کی غیر منصوبہ بند توسیع نہ صرف انفرااسٹرکچر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ عوامی سہولتوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ زرعی زمین کو نجی ہاؤسنگ کے لیے استعمال کرنا دراصل قوم کے غذائی مستقبل کا سودا کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے ملک بھر میں درختوں کی کٹائی پر قابو پانے اور پائیدار شہری ترقی کے فروغ کے لیے قومی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں عوامی آگاہی مہمات اور کم لاگت ہاؤسنگ ماڈلز کی ترقی کو بھی کلیدی سفارشات میں شامل کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت، صوبوں کے تعاون سے جلد ہی ایک جامع پالیسی متعارف کرائے گی جس کا مقصد زرعی زمینوں کا تحفظ اور شہری ترقی کو متوازن انداز میں فروغ دینا ہوگا۔






















Comments
Comments are closed.