وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ڈیجیٹائزیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام اور دیگر اصلاحات کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی تفصیلات وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دی گئی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ، ای-بلٹی (الیکٹرانک فریٹ دستاویزات)، ٹیکس ریٹرن فارموں میں آسانی، مصنوعی ذہانت پر مبنی تخمینہ جاتی نظام، مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا قیام اور کارگو ٹریکنگ نظام کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیرِ اعظم نے اردو زبان میں آسان ٹیکس ریٹرن فارموں کے اجرا کا خیرمقدم کیا اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیرِ اعظم آفس کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کا مقصد عام آدمی پر بوجھ کم کرنا ہونا چاہیے۔
وزیرِ اعظم نے تمام ایف بی آر اصلاحات کی کسی تھرڈ پارٹی سے تصدیق کرانے کی بھی ہدایت کی تاکہ مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن فارم مرکزی ڈیٹابیس سے منسلک کیے گئے ہیں اور انہیں مزید آسان اور قابلِ فہم بنایا گیا ہے۔
اجلاس کے مطابق تنخواہ دار طبقہ ان اصلاحات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گا۔ ان کے لیے نئے ریٹرن فارم 15 جولائی سے فعال ہو جائیں گے، جبکہ دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے یہ فارم 30 جولائی سے دستیاب ہوں گے۔ اردو زبان میں ریٹرن فارم برائے تنخواہ دار افراد ماہِ جولائی کے آخر تک دستیاب ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نئے نظام سے متعلق ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ عوام کو اس کے استعمال کا طریقہ سمجھایا جا سکے۔























Comments
Comments are closed.