BR100 Increased By (0.6%)
BR30 Increased By (0.78%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.77 Increased By ▲ 0.33 (0.56%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.14 Increased By ▲ 2.17 (1.12%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.35 Increased By ▲ 0.52 (0.98%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.61 Increased By ▲ 0.64 (3.37%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 214.99 Increased By ▲ 0.61 (0.28%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.90 Increased By ▲ 0.39 (0.45%)
OGDC 323.00 Increased By ▲ 3.04 (0.95%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 16.92 Increased By ▲ 0.25 (1.5%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.40 Increased By ▲ 1.22 (0.53%)
PRL 34.72 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
SNGP 99.39 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
SSGC 26.99 Increased By ▲ 0.39 (1.47%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.60 Increased By ▲ 0.38 (4.62%)
TRG 69.72 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
UNITY 11.67 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

ایک جرات مندانہ اقدام میں سیاسی گرما گرمی کو مزید ہوا دیتے ہوئے اپوزیشن جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکانِ اسمبلی نے ہفتے کے روز اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانگی اختیار کی، جہاں وہ اپنے قید رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے جا رہے ہیں۔

لاہور میں ہونے والا یہ اہم اجلاس نہ صرف احتجاجی تحریک کی منصوبہ بندی کرے گا بلکہ پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا بھی تعین کرے گا۔ وفد میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان شامل ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ پی ٹی آئی اپنی بکھری ہوئی صفوں کو ازسرِ نو منظم کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے۔

روانگی سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی امین گنڈاپور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ہمارا پہلا اجلاس تحریک کو 5 اگست تک لے جانے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے گا۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

یہ اجلاس ایک نہایت نازک وقت پر ہو رہا ہے: گزشتہ ماہ 27 جون کو پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے خطاب کے دوران پی ٹی آئی ارکان کی شدید نعرے بازی اور احتجاج کے نتیجے میں اسپیکر نے پارٹی کے 26 ارکان کو 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا تھا، جسے پی ٹی آئی نے ایک ’سوچی سمجھی سیاسی چال‘ قرار دیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ لاہور کا یہ اجلاس معطل ارکان سے یکجہتی کا واضح پیغام دے گا اور ایک جارحانہ احتجاجی مہم کی بنیاد رکھے گا۔

پارٹی کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی جلسے یا جلوس کا آغاز نہیں، بلکہ ہم نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اجلاس کی اطلاع باضابطہ طور پر پنجاب حکومت کو دے دی گئی ہے۔

ادھر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھیوں کی واپسی ان کا بنیادی حق ہے اور وہ ضرور واپس آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور کا یہ دورہ صرف حکمتِ عملی پر مشاورت کے لیے ہے اور پارٹی قیادت اجلاسوں کے بعد فوری طور پر واپس روانہ ہو جائے گی۔ انہوں نے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئینی حقوق کی مبینہ پامالی پر سخت ردعمل دیا کہ آرٹیکل 19 ہمارا بنیادی حق ہے، اور یہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔

سلیمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام سے دوبارہ جڑنے اور اُن کے مسائل سننے کی خواہش رکھتی ہے، خاص طور پر موجودہ بے چینی کے ماحول میں۔

یہ احتجاجی تحریک ایسے وقت میں منظم کی جا رہی ہے جب سپریم کورٹ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کے اس متنازع فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں پی ٹی آئی کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو فروری 2024 کے عام انتخابات سے قبل پارٹی کی انتخابی علامت چھن جانے کے تناظر میں پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ چونکہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہ مل سکا، اس لیے اس کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں اترے، جنہوں نے جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں متناسب مخصوص نشستیں دینے سے انکار کر دیا، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.