کراچی میں مون سون کی پہلی بارش نے شہر کو ایک بار پھر بدترین شہری بدانتظامی اور بنیادی انفرااسٹرکچر کی تباہ حالی کا عکاس بنا دیا۔ ہفتہ کے روز بزنس ریکارڈر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پرانے شہر کے علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے، نکاسیٔ آب کے نظام کی ناکامی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے مرکزی دفتر کے باہر ایم اے جناح روڈ بھی بارش اور گٹر کے پانی سے ڈوبا رہا۔ تجارتی علاقوں میں جزوی بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ تاخیر کا شکار ہوئی اور نشیبی علاقوں میں گھنٹوں تک پانی جمع رہا۔
مین ہولز اُبل پڑے، سیوریج لائنیں پھٹ گئیں، اور پہلے سے خراب سڑکیں مزید شکستہ ہو گئیں۔ ناظم آباد سے گلشنِ اقبال، سعدی ٹاؤن سے شارع فیصل، حتیٰ کہ M-9 موٹر وے کے اطراف کے راستے بھی بارش سے متاثر ہوئے، جہاں ٹریفک جام اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
عوامی غم و غصے کے درمیان جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے سندھ حکومت اور میئر کراچی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے نالوں کی صفائی نہ کر کے سندھ حکومت اور میئر کے دفتر نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیو کراچی نالہ، گجر نالہ، شادمان نالہ اور محمودآباد نالہ پہلی ہی بارش میں اُبل پڑے۔ یہ ایک واضح اور قابلِ روک تھام بحران تھا، اپوزیشن کی بار بار وارننگ کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
منعم ظفر کے مطابق، گزشتہ سال نالوں کی صفائی کے لیے 41 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، اور وعدہ کیا گیا تھا کہ ہر تین ماہ بعد صفائی کی جائے گی، لیکن یہ سب کھوکھلے وعدے ثابت ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، گزشتہ دو روز میں کراچی میں مختلف علاقوں میں نمایاں بارش ریکارڈ کی گئی، جن میں سرجانی ٹاؤن 38 ملی میٹر، گلشنِ معمار 28 ملی میٹر، سعدی ٹاؤن 20 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ 13 ملی میٹر، ناظم آباد اور جناح ٹرمینل 9 ملی میٹر، کورنگی اور نارتھ کراچی 7 ملی میٹر، اور کیماڑی و اورنگی ٹاؤن 6 ملی میٹر شامل ہیں۔ صدر، ڈیفنس فیز 2 اور گلشنِ حدید سے بھی ہلکی بارش کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
بارش کے ساتھ ساتھ بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ لیاری اور کھڈا مارکیٹ جیسے علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی معطل رہی۔ کئی بازار وقت سے پہلے بند کر دیے گئے اور ڈیلیوری سروسز بھی متاثرہ علاقوں میں معطل کر دی گئیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اتوار کو شہر میں مزید بارش اور گرج چمک کے امکانات ہیں، جب کہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ اور نمی کا تناسب 80 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تمام ضلعی انتظامیہ اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو تعاون اور حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سندھ کے دیگر شہروں جیسے جامشورو، حیدرآباد، دادو، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز اور بدین میں بھی درمیانے سے شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ادھر پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھی موسلادھار بارشیں جاری ہیں، جس سے مختلف علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
شہریوں کا سوال ہے کہ کیا اب کی بار کراچی کی انتظامیہ جاگے گی؟ یا بارش ایک بار پھر وعدوں کو بہا لے جائے گی؟
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.