BR100 Increased By (0.22%)
BR30 Increased By (0.26%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.24 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 27.33 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 0.35 (1.02%)
CNERGY 12.79 Decreased By ▼ -0.32 (-2.44%)
DFML 18.50 Increased By ▲ 0.10 (0.54%)
DGKC 215.80 Increased By ▲ 2.14 (1%)
FABL 99.81 Increased By ▲ 0.25 (0.25%)
FCCL 57.98 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
FFL 16.34 Increased By ▲ 0.11 (0.68%)
GGL 24.13 Increased By ▲ 0.15 (0.63%)
HBL 332.99 Decreased By ▼ -5.17 (-1.53%)
HUBC 214.00 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
HUMNL 10.58 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 7.46 Increased By ▲ 0.03 (0.4%)
LOTCHEM 27.80 Increased By ▲ 0.13 (0.47%)
MLCF 102.74 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
OGDC 319.40 Increased By ▲ 0.48 (0.15%)
PAEL 43.01 Decreased By ▼ -0.09 (-0.21%)
PIBTL 16.67 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 275.50 Increased By ▲ 2.50 (0.92%)
PPL 232.80 Increased By ▲ 3.35 (1.46%)
PRL 69.00 Decreased By ▼ -1.80 (-2.54%)
SNGP 103.30 Decreased By ▼ -1.28 (-1.22%)
SSGC 27.41 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.05 (0.59%)
TPLP 15.62 Decreased By ▼ -0.14 (-0.89%)
TRG 60.32 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
UNITY 11.74 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

بجٹ منظوری کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • کے ایس ای 100 انڈیکس 2,332.60 پوائنٹس کے اضافے سے تاریخ میں پہلی بار 124,379.07 پوائنٹس پر بند ہوا
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ روز فنانس بل 2025 کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد جمعہ کواسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کے ایس ای 100 انڈیکس ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوا۔

مارکیٹ میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں نے اپنی گرفت برقرار رکھی جس کی بدولت کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 125,285.05 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,332.60 پوائنٹس یا 1.91 فیصد اضافے سے تاریخ میں پہلی بار 124,379.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق اس جارحانہ خریداری کی وجہ سوشل میڈیا اور مارکیٹ میں گردش کرنے والی افواہیں تھیں کہ نئے سال کے بجٹ میں ایکویٹی فنڈز کے لیے اضافی سرمایہ مختص کیا جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا اور خریداری کے رجحان کو فروغ ملا۔

انڈیکس میں نمایاں مثبت کردار ایف ایف سی، لکی، میبل، پیٹرولیم کمپنیز (پی او یل)، اینگرو ایچ، ایف ای آر ٹی اور او جی ڈی سی نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر 1,044 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجيب نے بتایا کہ جمعہ کواسٹاک مارکیٹ میں یہ مضبوط رجحان مالی سال 26 کے لئے متوقع ری الاٹمنٹ کی پیش بندی میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی بدولت رہا جبکہ قومی اسمبلی کی جانب سے بجٹ کی منظوری نے بھی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔

ہفتہ وار بنیاد پر بھی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.63 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مزید کہا کہ یہ تیزی اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی وجہ سے ریکارڈ کی گئی ہے جس نے جغرافیائی کشیدگی کا خاتمہ کیا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے مالی سال کے اختتام سے پہلے خریداری کی۔

کاروباری سرگرمیوں کے دوران تمام اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور ریفائنری شامل ہیں۔ ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

قومی اسمبلی نے جمعرات کو مالی سال 2025-26 کے لیے 17.57 کھرب روپے کے مجموعی حجم پر مشتمل فنانس بل 2025 کو بعض ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا جسے حکومتی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

بل کی منظوری شق وار طریقے سے دی گئی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیاں خاصی اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں کیونکہ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں مسلسل فروخت کے دباؤ اور محتاط سرمایہ کارانہ رجحان کے باعث نمایاں کمی دیکھی گئی۔

گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 715.18 پوائنٹس کی کمی سے 122,046.46 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی حصص بازاروں نے جمعہ کو گزشتہ تین سال سے زائد کی بلند ترین سطح کو چھو لیا، کیونکہ انہوں نے وال اسٹریٹ کی ریلی کا تعاقب کیا، تاہم امریکی ڈالر کو فیڈرل ریزرو کی خودمختاری سے متعلق خدشات اور شرح سود میں جلد کٹوتی کی توقعات کے باعث دباؤ کا سامنا رہا۔

دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں رواں ہفتہ مثبت انداز میں ختم کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ٹیرف اور تجارتی معاہدوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال پس منظر میں چلی گئی ہے۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک کے جاپان کے علاوہ حصص کا وسیع ترین انڈیکس جمعہ کو کاروبار کے آغاز میں نومبر 2021 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق یہ انڈیکس 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا اور پورے ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہے۔

جاپان کا نکئی انڈیکس 1.5 فیصد کے اضافے سے اوپر گیا اور 5 ماہ بعد پہلی بار 40 ہزار کی حد عبور کرگیا۔

خوشگوار ماحول کی وجوہات میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان قریبی زمینی معادن کی ترسیل کو تیز کرنے کے حوالے سے طے پانے والا معاہدہ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ امریکی سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ انہوں نے کانگریس میں ریپبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس اور اخراجات کے بل سے سیکشن 899 کے بدلے میں عائد کی جانے والی ٹیرف تجویز کو حذف کرلیں کیونکہ واشنگٹن نے گروپ آف سیون صنعتی ممالک کے ساتھ ایک سمجھوتہ کر لیا ہے۔

انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ معمولی کمی کا شکار رہا اور 0.02 فیصد گر کر 283.72 کی سطح پر بند ہوا، یعنی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں صرف پانچ پیسے کی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔

مارکیٹ کے حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا جو گزشتہ بندش کے 758.54 ملین شیئرز سے بڑھ کر 773.41 ملین ہو گیا، جس سے سرمایہ کاری کے رجحان میں استحکام کی عکاسی ہوتی ہے۔

شیئرز کی مجموعی مالیت بھی نمایاں طور پر بڑھ کر 29.93 ارب روپے سے بڑھ کر 37.57 ارب روپے تک جا پہنچی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی تازہ دلیل ہے۔

بینک مکرمہ 79.75 ملین شیئرز کے ساتھ حجم کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ غنی گلو ہول 27.67 ملین شیئرز کے دوسرے اور پرویز احمد کمپنی 24.85 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

جمعہ کو کل 484 کمپنیوں کے شیئرز کی تجارت ہوئی، جن میں سے 334 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 116 میں کمی جبکہ 34 کمپنیوں کے حصص کی قیمت مستحکم رہی۔

 ۔
۔

Comments

Comments are closed.