وفاقی وزراء کی ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے ای کامرس ٹیکسیشن پر نظرثانی کی تجویز
- حکومت نے ای کامرس پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والی اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے
وفاقی وزارتِ تجارت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ای کامرس شعبے کے لیے اعلان کردہ ٹیکسیشن فریم ورک پر نظرثانی کی مشترکہ تجویز پیش کی ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ ”مسابقتی معیشت“ کے عنوان سے پیش کیا جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرحِ نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال 2024-25 کے اختتام پر شرحِ نمو 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
بجٹ تجاویز میں حکومت نے ای کامرس پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا جس پر وفاقی وزراء جام کمال خان اور شزا فاطمہ خواجہ نے اسمال اینڈ میڈیم سائز انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی مدد کیلئے نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک پریس بیان کے مطابق دونوں وزراء نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں ای کامرس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جس کا مقصد پاکستان کے تیزی سے ترقی پذیر ای کامرس شعبے کے اہم مسائل کو حل کرنا تھا۔
محمد اورنگزیب نے ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کی جانے والی اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ آن لائن کاروباروں اور ڈیجیٹل مارکیٹ کی تیز رفتار ترقی نے اُن روایتی کاروباروں کے لیے چیلنجز پیدا کیے ہیں جو ٹیکس قوانین کی مکمل پیروی کرتے ہیں، مساوی مواقع کی فراہمی اور ٹیکس قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ ای کامرس پلیٹ فارمز کی جانب سے سامان کی ترسیل کرنے والے کورئیر اور لاجسٹکس سروس فراہم کنندگان، ان پلیٹ فارمز سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کریں اور متعلقہ محکمے میں جمع کرائیں۔
فنانس بل 2025 کے مطابق وزارتِ خزانہ نے ای کامرس پلیٹ فارمز (بشمول ویب سائٹس) کے ذریعے آرڈر کی گئی اشیاء یا ڈیجیٹل طریقے سے فراہم کی گئی خدمات کی ادائیگی پر 0.25 فیصد سے 2 فیصد تک ٹیکس تجویز کیا ہے۔
یہ ٹیکس نقد ادائیگیوں پر بھی لاگو ہوگا جو کورئیر سروسز کے ذریعے کی جاتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اگر صارف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز (مثلاً آن لائن بینکنگ یا موبائل بینکنگ) کے ذریعے 10,000 روپے تک ادائیگی کرتا ہے، تو 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔10,001 روپے سے 20,000 روپے تک کی ادائیگی پر 2 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ 20,000 روپے سے زائد ادائیگی پر 0.25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
بجٹ تجاویز کے مطابق اسی طرح، اگر صارفین نقد ادائیگی پر الیکٹرانک یا برقی آلات وصول کرتے ہیں تو0.25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، اگر وہ ملبوسات، کپڑے، گارمنٹس وغیرہ خریدتے ہیں تو 1 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ دیگر اشیاء (جو نہ کپڑے ہیں اور نہ الیکٹرانک مصنوعات) خریدی جائیں تو 1 فیصد کا ٹیکس نقد ادائیگی کی صورت میں لاگو ہوگا۔
وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق پاکستان کے ای کامرس شعبے نے تیز رفتار ترقی کی ہے جس کا مارکیٹ کا مالیاتی حجم 2024 میں 7.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ شعبہ 2027 تک 17 فیصد سالانہ شرح نمو کے ساتھ ترقی کرتا رہے گا۔
آئندہ ای کامرس پالیسی کے مشاورتی انداز کے مطابق وزیرِ مملکت جام کمال خان نے آئی ٹی وزارت کی مشاورت سے ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان کیا جو ٹیکسیشن، وینڈر کمپلائنس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق جامع سفارشات اکٹھی کرے گا۔ اس گروپ کی سفارشات باضابطہ طور پر وزیرِاعظم کو حتمی غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔
وزیر جام کمال نے یہ بھی تصدیق کی کہ ای کامرس پالیسی 2.0 اندرونی جائزے کے آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔
فنانس بل میں ”ای کامرس“ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ای کامرس سے مراد اشیاء و خدمات کی خرید و فروخت ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورکس کے ذریعے ان طریقوں سے کی جائے جو خاص طور پر آرڈر وصول کرنے یا دینے کے لیے تیار کیے گئے ہوں، چاہے وہ ویب سائٹس، موبائل ایپلی کیشنز، یا آن لائن مارکیٹ پلیس ہوں جن میں ڈیجیٹل آرڈرنگ کی سہولت موجود ہو اور یہ موبائل فون، خودکار کمپیوٹر سے کمپیوٹر آرڈرنگ سسٹم، یا کوئی اسی نوعیت کا آلہ استعمال کرتے ہوئے کی جائے۔






















Comments
Comments are closed.