پاکستان کو رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2 اہم کمیٹیوں کی قیادت سونپے جانے پر بھارتی شہریوں سیخ پا ہوگئے ہیں کیوں نئی دہلی طویل عرصے سے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں مگن تھا۔
بھارت کے لیے یہ ایک سفارتی دھچکا بدھ کے روز اُس وقت سامنے آیا جب درج ذیل کمیٹیوں کی قیادت پاکستان کو سونپی گئی۔
-
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی نائب صدارت– یہ کمیٹی 9/11 کے بعد قرارداد 1373 کے تحت قائم کی گئی تھی اور دنیا بھر میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین اور اقدامات کی نگرانی کرتی ہے۔
-
طالبان پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی چیئرمین شپ – یہ کمیٹی قرارداد 1988 کے تحت کام کرتی ہے اور طالبان پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرتی ہے۔
یہ تقرریاں بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمتِ عملی کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہوئیں، خاص طور پر جب کہ اس سے قبل بھارت کو آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی اسی طرح کی ناکامیوں کو سامنا ہوا تھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے منسلک شخصیات نے سخت ردِعمل ظاہر کیا اور کچھ نے اقوام متحدہ کی ساکھ پر ہی سوال اٹھا دیا۔
بی جے پی سے تعلق رکھنے والی صحافی، سمیتا پراکاش نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مذاق بن کر رہ گئی ہے۔
دیگر کئی افراد نے مودی سرکار کو تجویز دی کہ وہ اقوام متحدہ چھوڑ دیں۔
بھارت کے بڑے ذرائع ابلاغ، جن میں ہندوستان ٹائمز بھی شامل ہے، نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اشتعال انگیز سرخیوں کے ساتھ اپنی خبروں میں برہمی کا اظہار کیا۔
یہ سفارتی بحران اُس وقت پھوٹ پڑا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں میں سب سے خطرناک فوجی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
یہ کشیدگی اپریل کے آخر میں اُس سنگین واقعے کے بعد شدت اختیار کر گئی جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ایک وحشیانہ حملہ ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے—جس کی ذمہ داری نئی دہلی نے مکمل طور پر پاکستان پر ڈالی۔
اسلام آباد کی شدید تردید کو نظر انداز کر دیا گیا اور اس واقعے نے سرحد پار فضائی حملوں کو جنم دیا جس کی وجہ سے نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ملک مکمل جنگ کے دہانے پہنچ گئے۔

























Comments
Comments are closed.