انڈونیشیا، چین کے جے-10 لڑاکا طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے کیونکہ یہ نسبتاً کم قیمت اور جدید صلاحیت کے حامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ملک امریکہ کے تیار کردہ ایف -15 ای ایکس طیارے خریدنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ بات ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بدھ کے روز بتائی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک حالیہ برسوں میں اپنے پرانے فوجی ساز و سامان کو جدید بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 2022 میں انڈونیشیا نے 8.1 ارب ڈالر مالیت کے 42 فرانسیسی رافال طیارے خریدے تھے، جن میں سے 6 آئندہ سال فراہم کیے جائیں گے۔
ممکنہ خریداری پر ایک سال سے زائد عرصے سے غور جاری ہے، جو بھارت اور پاکستان کے حالیہ تنازع سے پہلے کا معاملہ ہے۔ تاہم توفانتو نے کہا ہے کہ انڈونیشیا ان اطلاعات کو بھی مدنظر رکھے گا کہ گزشتہ ماہ ایک پاکستانی جے-10 طیارے نے متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔
انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع اور ریٹائرڈ ایئر مارشل ڈونی ارموان توفانتو نے کہا: ”ہماری چین سے بات چیت ہوئی ہے، اور انہوں نے ہمیں صرف J-10 ہی نہیں بلکہ بحری جہاز، اسلحہ اور فریگیٹس سمیت بہت کچھ پیش کیا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جے-10 کا جائزہ لے رہے ہیں اور وضاحت کی کہ جکارتہ اس وقت سسٹم کی مطابقت، بعد از فروخت تکنیکی معاونت، اور قیمت جیسے عوامل کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
یہ ممکنہ خریداری گزشتہ ایک سال سے زیر غور ہے، یعنی بھارت اور پاکستان کے حالیہ تنازع سے قبل کی بات ہے۔ تاہم توفانتو نے کہا کہ انڈونیشیا ان رپورٹس کو بھی مدنظر رکھے گا جن کے مطابق گزشتہ ماہ ایک پاکستانی جے-10 طیارے نے متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔
توفانتو نے مزید کہا کہ جکارتہ اب بھی یہ فیصلہ کرنے پر غور کررہا ہے کہ آیا 2023 میں دفاعی وزارت کے اور طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت ایف -15 ای ایکس لڑاکا طیارے کی خریداری کے اگلے مرحلے پر آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔
توفانتو نے کہا کہ امریکی طیاروں کی صلاحیتیں اچھی طرح دستاویزی ہیں لیکن 24 طیاروں کے لیے 8 ارب ڈالر کی پیش کردہ قیمت پر ابھی سوالات باقی ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جکارتہ میں انڈونیشیا کے صدر پروباؤ سبیانٹو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے ایک ابتدائی دفاعی معاہدہ طے کیا ہے، جو فرانسیسی ہارڈویئر بشمول رافال طیاروں کے نئے آرڈرز کا باعث بن سکتا ہے۔
توفانتو نے کہا کہ ہم (فرانس کی) پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بجٹ کا جائزہ لے رہے ہیں اور خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھ رہے ہیں کہ ہمارے پاس جے-10 اور ایف-15 لڑاکا طیاروں جیسے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

























Comments
Comments are closed.