60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف ناقابل حصول ہے، وزارت تجارت
- وزارت تجارت نے ہدف ناقابل حصول ہونے کی وجہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر درپیش متعدد چیلنجز کو قرار دیا
وزارتِ تجارت نے وزیرِ اعظم کی جانب سے مقرر کردہ 2029 تک 60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، وزارت تجارت نے اس کی وجہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر درپیش متعدد چیلنجز کو قرار دیا ہے۔
وزارت تجارت نے کہا کہ 2029 تک 60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ایک نہایت مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ پاکستان کو پیچیدہ بین الاقوامی اور ملکی حالات کا سامنا ہے۔ بیرونی عوامل میں امریکی ٹیرف کے جاری اثرات، روس-یوکرین جنگ کے طویل نتائج، اور عالمی منڈیوں کی سست روی جیسے مسائل شامل ہیں جو پاکستان کی برآمدی کارکردگی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اندرونِ ملک، بلند توانائی قیمتیں اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں مسلسل برآمدات میں پائیدار اضافہ کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
ریگولیٹری اور ساختی اصلاحات کے ضمن میں وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ صنعتی لاگت میں کمی کے لیے ٹیرف میں نرمی لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزارت نے ای-کامرس کو جدید تجارت کا کلیدی محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کے لیے پالیسی اقدامات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزارت تجارت نے بتایا کہ ہم ایک نئی ای-کامرس پالیسی متعارف کروا رہے ہیں جس کا مقصد ضوابط میں بہتری، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور آن لائن برآمد کنندگان کو ہدفی معاونت فراہم کرنا ہے۔ ساتھ ہی وزارت تجارت ایک نئی ڈومیسٹک کامرس پالیسی تیار کر رہی ہے جس کا مقصد مقامی پیداوار کو بحال کرنا، ملکی فاضل پیداوار میں اضافہ کرنا اور برآمدی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
وزارت تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدی نمو کے لیے مربوط پالیسی اپروچ ناگزیر ہے، جس میں مالی معاونت، ضوابط کی سہولت کاری، توانائی قیمتوں اور تجارتی میکانزم میں مداخلت ضروری ہیں۔
مالی معاونت اور لیکویڈیٹی سپورٹ کے حوالے سے وزارت تجارت نے بتایا کہ پالیسی ریٹ میں کمی اور برآمدی سہولت اسکیموں کی توسیع پر کام جاری ہے۔ صنعتی توسیع اور سولرائزیشن کے فروغ کے لیے رعایتی مالیاتی نظام کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔
برآمدی صنعتوں کے لیے خطے میں مسابقتی توانائی نرخوں اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو مرکزی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ وزارت تجارت نے بتایا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی وِیلنگ ریٹس کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کی لاگت میں کمی کی جا سکے۔
ریگولیٹری امور کے تحت وزارت تجارت نے درآمدی خام مال کی کلیئرنس کو تیز تر بنانے کو ترجیحی ہدف قرار دیا ہے۔ موجودہ برآمدی سہولت اسکیموں کو مؤثر بنانے اور بہتر ہدف بندی کے لیے دوبارہ ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ٹیرف میں نرمی اور ریفنڈ کلیمز کی فوری ادائیگی جیسے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ برآمد کنندگان کو سہولت دی جا سکے۔
وزارت نے واضح کیا کہ 60 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تجارتی سفارت کاری، ایس ایم ای کی صلاحیت سازی، مارکیٹ تک بہتر رسائی، تجارتی سہولت کاری، اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے کلیدی عوامل پر توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ تمام اقدامات حکومت کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت انجام دینا ہوں گے۔
اس مقصد کے لیے وزارت تجارت نے ہر شعبے کی مکمل استعداد استعمال کرنے کے لیے اہدافی پالیسی اقدامات اور سیکٹر اسپیسیفک روڈ میپس پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے، جن میں زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، مائننگ، سروسز اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔
وزارت تجارت نے بتایا کہ غیر ٹیکسٹائل مصنوعات کا برآمدی حجم بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن میں مینوفیکچرنگ، مائننگ، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں قابلِ ذکر نمو دیکھی گئی ہے—چاہے مالیت کے لحاظ سے ہو یا حصہ کے اعتبار سے۔
تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ 60 ارب ڈالر کے ہدف کا حصول کئی اہم عوامل پر منحصر ہے، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، صنعتوں کی منتقلی اور معدنی وسائل کی تلاش شامل ہیں۔ وزارت تجارت نے خبردار کیا کہ بیرونی جھٹکے—جیسا کہ امریکی ٹیرف اور عالمی منڈیوں کی سست روی—برآمدی کارکردگی کے لیے مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
وزارتِ تجارت نے بتایا کہ وہ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کی قیادت کر رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.