BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.1%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 26.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 10.08 Increased By ▲ 0.20 (2.02%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.85 Decreased By ▼ -1.08 (-0.53%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 53.70 Increased By ▲ 0.61 (1.15%)
FFL 16.54 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
GGL 25.49 Increased By ▲ 0.65 (2.62%)
HBL 300.39 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
HUBC 217.69 Increased By ▲ 0.61 (0.28%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 29.60 Increased By ▲ 0.29 (0.99%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -0.76 (-0.82%)
OGDC 317.87 Increased By ▲ 1.58 (0.5%)
PAEL 42.08 Increased By ▲ 0.04 (0.1%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 297.99 Decreased By ▼ -2.25 (-0.75%)
PPL 218.18 Increased By ▲ 1.34 (0.62%)
PRL 52.01 Increased By ▲ 1.15 (2.26%)
SNGP 101.07 Decreased By ▼ -0.65 (-0.64%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.57 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
TPLP 13.55 Increased By ▲ 0.16 (1.19%)
TRG 59.10 Decreased By ▼ -0.16 (-0.27%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، پاکستان (اے ٹی آئی آر ) کے اراکین کے خلاف جاری کیے گئے سابقہ حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اپنی تقرریوں کے مقدمے میں صفائی کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان تقرریوں پر عدالتی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب یہ الزامات سامنے آئے کہ یہ تقرریاں اشتہار دیے بغیر، یعنی ’ہیڈ ہنٹنگ‘ کے ذریعے کی گئیں، جس پر شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے سوالات اٹھے۔

ذرائع کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سے قبل ایک عبوری حکم میں کہا تھا کہ اے ٹی آئی آر میں کی گئی تمام تقرریاں اس درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گی جو ان تقرریوں کو چیلنج کرتی ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ سروس کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے مطابق، جواب دہندگان نمبر 3، 5 تا 11 کو اے ٹی آئی آر کے ذریعے نوٹس دیا گیا، مگر آج ان کی طرف سے کوئی پیش نہ ہوا، لہٰذا انہیں یکطرفہ کارروائی کے تحت شامل کیا گیا۔

درخواستوں کا مقصد 23 اپریل 2025 کا وہ حکم واپس لینا تھا جس کے تحت جواب دہندگان نمبر 3 اور 5 کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، لہٰذا انہیں منظور کر لیا گیا اور سابقہ حکم کو واپس لے لیا گیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل وفاق کی جانب سے پیش ہوئے اور بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں مصروف ہیں، لہٰذا وقت درکار ہے۔ عدالت نے یہ مہلت منظور کر لی۔

درخواست ڈبلیو پی 1053/25 کے مطابق، جن نئے فریقین کو شامل کیا گیا ان میں بیرسٹر ظہور احمد، محمد نعیم اشرف، دانش علی قاضی، زاہد سکندر، شفقات علی، ناصر محمود، سید محمود الحسن، بیرسٹر ڈاکٹر حما سودھر، عمادالحسن شامل ہیں۔

ایڈووکیٹ وحید بٹ کے مطابق، عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں سرکاری اداروں، خصوصاً اے ٹی آئی آر جیسے ٹربیونلز میں تقرریوں کے لیے شفاف بھرتی کے عمل کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم اثرات مرتب کرے گا۔ آنے والی سماعتوں میں فیصلہ ہوگا کہ یہ تقرریاں قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہیں یا ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.