BR100 Decreased By (-0.09%)
BR30 Decreased By (-0.17%)
KSE100 Increased By (0.13%)
KSE30 Increased By (0.11%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.73 Decreased By ▼ -0.02 (-0.06%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.19 (1.92%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.74 Decreased By ▼ -1.19 (-0.58%)
FABL 99.94 Decreased By ▼ -0.16 (-0.16%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.41 (0.77%)
FFL 16.55 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
GGL 25.45 Increased By ▲ 0.61 (2.46%)
HBL 300.38 Increased By ▲ 0.56 (0.19%)
HUBC 218.16 Increased By ▲ 1.08 (0.5%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.23 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 29.60 Increased By ▲ 0.29 (0.99%)
MLCF 91.44 Decreased By ▼ -0.72 (-0.78%)
OGDC 317.88 Increased By ▲ 1.59 (0.5%)
PAEL 42.08 Increased By ▲ 0.04 (0.1%)
PIBTL 16.54 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 297.99 Decreased By ▼ -2.25 (-0.75%)
PPL 217.89 Increased By ▲ 1.05 (0.48%)
PRL 52.02 Increased By ▲ 1.16 (2.28%)
SNGP 101.15 Decreased By ▼ -0.57 (-0.56%)
SSGC 26.65 Decreased By ▼ -0.33 (-1.22%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.55 Increased By ▲ 0.16 (1.19%)
TRG 59.20 Decreased By ▼ -0.06 (-0.1%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے مارچ اور اپریل 2025 میں پاکستان بھر میں اپنے دو سالہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے ویو 27 کے نتائج جاری کیے ہیں، جن میں کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اکتوبر-نومبر 2024 کے پچھلے سروے کے مقابلے میں اعتماد کی سطح منفی 5 فیصد سے بڑھ کر مثبت 11 فیصد ہوگئی، یعنی 16 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

سروے میں شامل شرکا نے مہنگائی 80 فیصد، ٹیکسیشن 80 فیصد، حکومتی پالیسیوں میں عدم استحکام 67 فیصد، روپے کی قدر میں کمی 66 فیصد، بدعنوانی 54 فیصد اور سیکیورٹی خطرات و اسٹریٹ کرائمز 51 فیصد کو اہم چیلنجز قرار دیا۔

او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین، جیسن اووانسینا، سید اکبر علی اور سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مثبت رجحان کی بنیادی وجہ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور آئندہ چھ ماہ میں بہتری کی توقعات ہیں۔

مینوفیکچرنگ سیکٹر نے نمایاں بہتری دکھائی اور منفی 3 فیصد سے بڑھ کر مثبت 15 فیصد پر آ گیا۔ ریٹیل و ہول سیل سیکٹر بھی منفی 18 فیصد سے بہتری کے بعد مثبت 2 فیصد پر پہنچا، جبکہ سروسز سیکٹر کی سطح بھی مثبت 2 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی۔

یوسف حسین نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اعتماد میں بہتری واضح کرتی ہے کہ ہم درست معاشی سمت میں جا رہے ہیں۔ نجی شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری میں سہولت اور طویل مدتی معاشی استحکام ہماری ترجیحات ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور اسٹیک ہولڈرز سے مستقل روابط ضروری ہیں، بالخصوص او آئی سی سی آئی کے ممبران سے۔

ویو 27 کے نتائج کے مطابق، آئندہ چھ ماہ کے بارے میں 45 فیصد شرکاء نے مثبت توقعات ظاہر کیں۔ معاشی ترقی، بہتر حکومتی پالیسی، سرمایہ کاری کے بہتر مواقع اور سیکیورٹی کی صورتحال کو اس مثبت رجحان کا اہم سبب قرار دیا گیا۔

تاہم، پچھلے چھ ماہ کے بارے میں 53 فیصد شرکاء نے منفی رائے دی، جو پچھلے سروے میں 66 فیصد منفی تھی، اس میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ اہم خدشات میں سیاسی استحکام، روپے کی قدر، توانائی اور تجارتی پالیسیوں کو شامل کیا گیا۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بزنس کانفیڈنس کی سطح بھی 6 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہوگئی، جس کی بڑی وجہ عالمی معاشی فضا میں بہتری، مقامی صنعتوں میں سازگار ماحول اور آئندہ چھ ماہ میں سرمایہ کاری کی توقعات ہیں۔

او آئی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو عبدالعلیم کے مطابق اس بار کے نتائج توقعات سے بہتر ہیں۔ روزگار کے امکانات، توسیعی منصوبے اور سرمایہ کاری کی توقعات خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور ریٹیل سیکٹرز میں نمایاں ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ نئی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں 19 فیصد بہتری آئی ہے، لیکن یہ اب بھی منفی زون میں ہے، جسے بہتر بنانا ہوگا تاکہ معاشی ترقی، بڑے پیمانے کی صنعتوں، تجارت اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

او آئی سی سی آئی کا یہ بی سی آئی سروے سال میں دو بار کیا جاتا ہے، جس میں کاروباری برادری کی رائے شامل ہوتی ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 80 فیصد حصہ بناتی ہے۔ یہ سروے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد سمیت ملک کے بڑے کاروباری مراکز میں براہ راست انٹرویوز کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.