برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک ہفتے قبل ختم ہونے والی شدید ترین جھڑپوں کے بعد پاکستان کے دورے پر ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازع نے عالمی سطح پر خدشات پیدا کر دیے تھے کہ یہ مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے لیکن بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تصاویر کے مطابق اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں اپنے برطانوی ہم منصب کا استقبال کیا۔
برطانیہ ان کئی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے گزشتہ ہفتے جھڑپوں کے بعد کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی تھی، اور وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس وقت کہا تھا کہ برطانیہ دونوں ممالک کے ساتھ ”فوری رابطے“ میں ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے الگ الگ دورہ کیے تھے اور ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
لڑائی اُس وقت شروع ہوئی جب بھارت نے 7 مئی کو پاکستان میں اُن مقامات پر حملے کیے جنہیں اس نے ”دہشت گرد کیمپ“ قرار دیا، یہ حملے اپریل میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد کیے گئے تھے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کی سرپرستی کررہا ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں کے دوران شہریوں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔ پاکستان نے یہ الزام مسترد کر دیا ہے۔
حملے کے چار روز بعد دونوں ممالک کے درمیان ڈرون، میزائل اور توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے شدید جھڑپیں جاری رہیں جن میں دونوں طرف سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور درجنوں شہریوں سمیت 70 افراد موت کی ابدی نیند سو گئے۔
پاکستان اور بھارت انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے آئی ای) کے رکن ممالک ہیں۔




















Comments
Comments are closed.