BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح مذاکرات کار آج اتوار کو سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز کریں گے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر پائے جانے والے اختلافات کو دور کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے دورے سے قبل ایران پر اپنا مؤقف مزید سخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا یہ چوتھا دور ہوگا، جس میں عمان ثالث کے طور پر شامل ہے۔ اگرچہ دونوں فریق سفارتی حل کے خواہاں ہیں، لیکن کئی حساس نکات پر سخت اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی مذاکرات کار وٹکوف نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ واشنگٹن کی ”ریڈ لائن“ یہ ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں یورینیم کی افزودگی جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے ایران کے نیوکلیئر پلانٹس — نطنز، فردو اور اصفہان — کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اتوار کو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو ”ہمیں کوئی اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔“

ادھر عباس عراقچی نے جواب میں کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ان مذاکرات کا مقصد ایران کے قانونی جوہری حقوق کو محدود کرنا ہے، تو ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق ایران کچھ پابندیاں قبول کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔ تاہم یورینیم کی افزودگی ختم کرنا یا ذخائر حوالے کرنا ایران کی ریڈ لائنز ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے ایران نے یورینیم کی افزودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

Comments

Comments are closed.