BR100 Decreased By (-0.53%)
BR30 Decreased By (-0.98%)
KSE100 Decreased By (-0.46%)
KSE30 Decreased By (-0.43%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.98 Decreased By ▼ -4.47 (-2.32%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.38 Decreased By ▼ -0.41 (-0.78%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.53 Decreased By ▼ -0.57 (-0.19%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.39 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 91.85 Decreased By ▼ -1.31 (-1.41%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.18 Decreased By ▼ -0.45 (-1.26%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 222.80 Decreased By ▼ -4.11 (-1.81%)
PRL 91.35 Decreased By ▼ -1.67 (-1.8%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.35 Decreased By ▼ -0.46 (-1.93%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.36 (-2.78%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

ابھارت کی بلااشتعال اور غیرقانونی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے ہفتہ کی صبح ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کا آغاز کر دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی بھارتی حملوں کے بعد کی گئی، جن میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی شہادتیں ہوئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے صرف ان مقامات اور اداروں کو نشانہ بنایا جو اس جارحیت کی منصوبہ بندی، تیاری اور عمل درآمد میں شامل تھے، جن میں وہ بھارتی فضائی اڈے بھی شامل تھے جہاں سے پاکستان کے ہوائی اڈوں پر میزائل داغے گئے۔ ان حملوں کے ناقابل تردید شواہد عالمی برادری کے ساتھ پہلے ہی شیئر کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت اور پاکستان کی غیرجانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کو نظر انداز کرتے ہوئے 7 سے 10 مئی کی درمیانی شب میں کئی حملے کیے، جن میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت درجنوں بے گناہ شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے، جب کہ عبادت گاہوں سمیت بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

پاکستان کے سفیر شفقت علی خان کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جن سے انسانی جانوں اور املاک کا بڑا نقصان ہوا۔ بھارتی حملوں نے ملک بھر میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا اور عوام کی جانب سے فوری ردعمل کا مطالبہ سامنے آیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی جارحیت اور مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود حد درجہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، عوام کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک محدود، درست اور ذمہ دارانہ ردعمل دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ پاکستان کا جواب مکمل طور پر محتاط، متناسب اور شہری ہلاکتوں سے گریز پر مبنی تھا۔

سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان یہ خطرناک کشیدگی عالمی برادری سے سنجیدہ اور جامع جائزے کا تقاضا کرتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ حل طلب تنازع نے خطے میں عدم استحکام کو جنم دیا ہے، جب کہ بھارت کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑ کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت، پاکستان کی مغربی سرحد پر دہشتگردی کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی مصروفیت سے فائدہ اٹھا کر مسلسل ہائبرڈ وار اور پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے۔ بھارت کا یہ پروپیگنڈا کہ پاکستان دہشتگردی کا مرکز ہے، ہر اس موقع پر ابھرتا ہے جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی کے قریب ہوتا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ بھارت کو جھوٹے دہشتگردی کے بیانیے کے استعمال سے روکا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ تمام تنازعات، بشمول مسئلہ کشمیر، پرامن اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے حل کا خواہاں ہے۔ لیکن اس کے لیے بھارت کو جارحیت سے باز رہنا ہوگا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادر وطن کے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور قومی مفادات کی نگہبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ علاقائی امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.