BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Increased By (0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 10.04 Increased By ▲ 0.16 (1.62%)
DFML 18.29 Increased By ▲ 0.29 (1.61%)
DGKC 203.71 Decreased By ▼ -1.22 (-0.6%)
FABL 99.79 Decreased By ▼ -0.31 (-0.31%)
FCCL 52.89 Decreased By ▼ -0.20 (-0.38%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.24 Increased By ▲ 0.40 (1.61%)
HBL 299.79 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
HUBC 217.26 Increased By ▲ 0.18 (0.08%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.56 Increased By ▲ 0.25 (0.85%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -1.16 (-1.26%)
OGDC 317.01 Increased By ▲ 0.72 (0.23%)
PAEL 41.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.69%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 297.59 Decreased By ▼ -2.65 (-0.88%)
PPL 217.50 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
PRL 51.86 Increased By ▲ 1.00 (1.97%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.52 Decreased By ▼ -0.13 (-1.5%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.21 (-0.35%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.15 (-1.46%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان کو ہرسال غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ کے باعث 750 ارب روپے کے محصولات کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تمباکو اور پٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اہم شعبوں میں اسمگلنگ اور غیرقانونی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) اور ٹرانس نیشنل الائنس ٹو کومبیٹ الِسِٹ ٹریڈ (ٹریکٹ) نے مشترکہ طور پر ٹریکٹ کی رپورٹ ”پاکستان کی غیرقانونی تجارت کے خلاف جنگ: چیلنجز اور مزاحمت کی راہیں“ جاری کی۔

رپورٹ کے مطابق، اسمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات، جعلی ادویات، غیر ٹیکس شدہ سگریٹ اور کم رسید کردہ درآمدی اشیاء جیسی مصنوعات کے ذریعے غیرقانونی تجارت پاکستان کے کئی شعبوں میں گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 123 ارب ڈالر مالیت کی غیررسمی معیشت کی وجہ سے سالانہ محصولات کا نقصان 3.4 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔

اس موقع پر مزید دو رپورٹس بھی جاری کی گئیں: ٹریکٹ کا ”2025 گلوبل الِسِٹ ٹریڈ انڈیکس“ اور پرائم کی ”پاکستان میں غیرقانونی تجارت کے خلاف جدوجہد: ساختی اور پالیسی تجزیہ“۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح پالیسی کی کمزوریوں، عملدرآمد میں خلا، اور اقتصادی ڈھانچے کی خرابیاں غیرقانونی منڈیوں کو فروغ دینے کا باعث بنی ہیں۔

ٹریکٹ کے ڈائریکٹر جنرل جیفری پی ہارڈی نے کہا کہ پاکستان کی غیرقانونی تجارت کے حوالے سے خراب عالمی درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ مؤثر پالیسی کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک قومی کوآرڈینیٹر برائے غیرقانونی تجارت کی تقرری انتہائی ضروری ہے تاکہ مانیٹرنگ اور نفاذ کو مؤثر بنایا جا سکے۔

غیرقانونی تجارت کے عالمی اشاریے میں 2025 کے مطابق پاکستان 158 ممالک میں سے 101ویں نمبر پر ہے، جو عالمی اوسط سے کافی کم ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت 52ویں، بنگلہ دیش 95ویں اور سری لنکا 73ویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان کا مجموعی اسکور 44.5 ہے جو ٹیکسیشن، ریگولیٹری عملدرآمد، اور سپلائی چین سیکیورٹی میں شدید کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے تجارت، کسٹمز اور بارڈر مینجمنٹ میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی (اسکور 75.4)، لیکن شعبہ جاتی غیرقانونی تجارت (اسکور 29.3) اور سپلائی چین میں انٹرمیڈیریز کے انتظام (اسکور 25.9) میں کمزوریاں برقرار ہیں۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، رپورٹس ایک جامع اور منظم اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرتی ہیں۔ ان اصلاحات میں سب سے اہم ٹیکسیشن پالیسی کی اصلاح ہے۔ رپورٹس میں تجویز دی گئی ہے کہ ایکسائز ڈیوٹیز اور کسٹمز ٹیرف کو زمینی معاشی حقائق کے مطابق معقول بنایا جائے تاکہ اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہو۔

رپورٹس کے مطابق، انفورسمنٹ میکنزم کو مضبوط بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ اگرچہ پاکستان نے بارڈر کنٹرول کو بہتر بنانے میں پیش رفت کی ہے، لیکن مقامی مارکیٹ میں قانون نافذ کرنے کا نظام کمزور ہے۔ اس کے لیے ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک (آئی آر ای این) کو وسعت دینا، مارکیٹ انسپیکشن میں اضافہ، اور ایف بی آر کے انفورسمنٹ آپریشنز پر اخراجات میں اضافہ ضروری ہے تاکہ خوردہ اور تقسیم کی سطح پر غیرقانونی تجارت کو روکا جا سکے اور محصولات کی وصولی بہتر بنائی جا سکے۔

رپورٹ میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو جدید بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ خاص طور پر تمباکو کے شعبے میں کم تعمیل اس بات کی علامت ہے کہ یہ نظام مؤثر طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔ اس نظام کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا، باقاعدہ آڈٹس کو یقینی بنانا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

علاوہ ازیں، اداروں کے مابین بہتر رابطہ کاری کی بھی ضرورت ہے۔ کسٹمز، ایف بی آر، ایکسائز اور بارڈر فورسز کے درمیان مربوط حکمت عملی کے فقدان نے نفاذ کے نظام کو کمزور کیا ہے۔ ٹریکٹ نے تجویز دی ہے کہ مشترکہ آپریشنز، انٹیلیجنس شیئرنگ، اور مربوط رابطے کے پلیٹ فارمز قائم کیے جائیں تاکہ غیرقانونی سپلائی چینز کو توڑا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان ان اصلاحات کو سنجیدگی سے اپنائے تو غیرقانونی تجارت پر قابو پایا جا سکتا ہے، منڈیوں میں مسابقت کو بحال کیا جا سکتا ہے، محصولات میں اضافہ ممکن ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور انفورسمنٹ کے نظام کو جدید بنانا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان معاشی لحاظ سے ایک پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.