پاکستان صوبہ سندھ میں جنوبی ایشیا کا سب سے طویل دریائی پل — گھوٹکی-کندھ کوٹ پل — تعمیر کر رہا ہے۔ یہ پل 12.5 کلومیٹر طویل ہوگا جس پر تعمیرات 2028 تک مکمل ہوں گی۔ اس دریائی پل کی تعمیر پر کل لاگت تقریباً 30.5 ارب روپے آئی گی۔ یہ بات سندھ حکومت کے ایک عہدیدار نے بزنس ریکارڈ کو بتائی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ و سرمایہ کاری سید قاسم نوید قمر نے جمعرات کو بزنس کمیونیٹی کے ساتھ ملاقات کے موقع پر کہا کہ یہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے کا طویل ترین پل ہوگا جو دریا پر تعمیر کیا جارہا ہے۔
نوید قمر کے مطابق منصوبے پر گزشتہ دو سال سے بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد 2028 تک اس پل کی تعمیر مکمل کرنا اور اس کا افتتاح کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے صوبوں کو ملانے والے ایک اہم ترین مقام پر واقع یہ پل علاقائی رابطے کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی لائے گا۔
نوید قمر کے مطابق یہ پل دریا پار کرنے کے سفر اور وقت کو نمایاں طور پر کم کرے گا، اس وقت یہ سفر کرنے کیلئے ڈھائی گھنٹے درکار ہے جو پل کی تعمیر کے بعد کم ہوکر ڈیڑھ گھنٹہ رہ جائے گا، یہ منصوبہ دیرینہ مسائل جیسے کہ امن و امان کی صورتحال اور کچے کے علاقوں — یعنی دریا کے کنارے واقع پسماندہ نشیبی علاقوں — میں اغوا کے واقعات کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
معاون خصوصی سندھ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ گھوٹکی میں کچھ صنعتی ترقی اور شاہراہوں کے رابطے میں بہتری آئی ہے لیکن کندھ کوٹ میں ایسی ہی ترقی کی کمی رہی ہے، یہ پل کندھ کوٹ کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع کھولے گا اور ان کے ذریعہ معاش کو بہتر بنائے گا۔
کاروباری برادری سے ملاقات کے دوران نوید قمر اور ان کی ٹیم نے تقریباً ایک درجن منصوبوں کی نمائش کی — جن میں خصوصی اقتصادی زونز، سڑکیں اور پل، اسکول اور اسپتال جیسے منصوبے شامل تھے — جن کی مشترکہ تخمینہ لاگت 616 ارب روپے سے زائد ہے۔
اس ملاقات کا مقصد ان اقدامات میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے نجی شعبے کو راغب کرنا تھا۔
اس اجلاس میں شریک نمایاں کاروباری شخصیات میں رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رہنما زبیر موتی والا، اور معروف صنعتکار و اسٹاک بروکر عارف حبیب شامل تھے۔ دیگر نمایاں شرکاء میں عارف الٰہی، دانش خان، جنید نقی، زاہد سعید، سمیر چنائے اور دانش الٰہی شامل تھے۔





















Comments
Comments are closed.