آئندہ بجٹ مشکل ہوگا، تنخواہ دار طبقے کے علاوہ کسی کو رعایت نہیں دی جائیگی، چیئرمین ایف بی آر
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود نے بدھ کے روز واضح طور پر کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ (26-2025) سخت ہوگا اور تنخواہ دار طبقے کے علاوہ کسی کو سیلز ٹیکس میں رعایت یا کمی نہیں دی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس کے دوران کہی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کراچی سے آن لائن شرکت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار افراد کو ٹیکس ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر تنخواہ دار طبقے کو آئندہ بجٹ میں بڑا ریلیف دینے پر کام کر رہا ہے۔
ڈیری سیکٹر کی جانب سے سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز پر چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ بجٹ مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس تجویز پر تجزیاتی کام جاری ہے، مگر پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، اور اس کے تحت سیلز ٹیکس میں کمی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ریونیو کے حوالے سے ایک مشکل مرحلے میں ہیں۔ مالی سال 25-2024 کے لیے ٹیکس ہدف طے کرنے میں جو اقتصادی مفروضے استعمال کیے گئے تھے جیسے جی ڈی پی گروتھ، درآمدات، مہنگائی، اور بڑی صنعتوں کی ترقی، ان میں تبدیلی آچکی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی یونٹ قائم کر دیا گیا ہے، تاہم جب تک یہ یونٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتا، اس سال کا بجٹ ایف بی آر ہی تیار کرے گا۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے ایف بی آر کو مشورہ دیا کہ وہ دودھ پر سیلز ٹیکس میں کمی کرے اور اس کمی کو کسی اور سیکٹر سے پورا کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایف بی آر آئی ایم ایف کو قائل کرے کہ اس ضروری اشیاء پر ٹیکس میں کمی کی بھرپائی دیگر ذرائع سے کی جائے گی۔
کمیٹی نے ”انکم ٹیکس (ترمیمی) بل، 2024“ کا جائزہ لیا اور سفارش کی کہ قومی اسمبلی اسے موجودہ شکل میں منظور کرے۔
کمیٹی نے ”کارپوریٹ سوشل ریسپانسبیلٹی بل، 2025“ کا بھی جائزہ لیا، جو رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پیش کیا تھا۔ اراکین نے اس قانون سازی کی متفقہ طور پر حمایت کی۔ بل کے مزید جائزے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر مرزا اختیار بیگ ہوں گے، جبکہ ارکان میں رانا ارادت شریف، ارشد عبداللہ وھرا اور محمد علی سرفراز شامل ہوں گے۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کے نفاذ میں ناکامی کے مسئلے پر بھی غور کیا، جو رکن قومی اسمبلی سید آغا رفیع اللہ نے اٹھایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف نجی شعبہ کم اجرت دے رہا ہے بلکہ کئی سرکاری ادارے بھی مقررہ کم از کم اجرت پر عمل نہیں کر رہے۔
اس پر چیئرمین کمیٹی نے ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کی طے کردہ کم از کم اجرت کا تمام اداروں میں نفاذ یقینی بنائیں۔ انہوں نے آغا رفیع اللہ سے کہا کہ وہ ثبوت سیکرٹری فنانس کو فراہم کریں تاکہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔
کمیٹی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 99ڈی کے آئینی جواز اور اس کی ممکنہ طور پر منفی شقوں کے بارے میں انکوائری کے مسئلے پر بھی بحث کی، جو رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین نے اٹھایا تھا۔
زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے صدر نے بینک کی کارکردگی اور آپریشنل سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بینک کسانوں کی مدد کی بجائے منافع کمانے کو ترجیح دے رہا ہے۔
چیئرمین نے بینک کے صدر کو ہدایت دی کہ قرضے کی سہولت کو مزید وسیع اور صارف دوست بنایا جائے۔ انہوں نے کسانوں کے لیے مناسب حد والا کریڈٹ کارڈ متعارف کروانے اور آسان اقساط میں ادائیگی پر مراعات دینے کی سفارش کی۔
کمیٹی نے بینک سے صوبہ وار قرضوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔
مزید برآں، کمیٹی نے بینک کی ممکنہ نجکاری پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
آخر میں، کمیٹی نے اپنی سابقہ میٹنگ کے منٹس متفقہ طور پر منظور کر لیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.