بھارت نے اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں ایک درجن سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں حملے کے بعد بھارت نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے پر ایک درجن سے زائد پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
پابندی کی زد میں آنے والے پلیٹ فارمز میں ڈان، سما ٹی وی، اے آر وائی نیوز، بول نیوز، رفتار، جیو نیوز اور سنو نیوز کے یوٹیوب چینلز شامل ہیں۔
بھارت میں پیر کو ان سائٹس کو بلاک کیا گیا اور ایک پیغام میں کہا گیا کہ یہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و نسق سے متعلق حکومت کے حکم کی وجہ سے ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی نے 16 چینلز کی فہرست فراہم کرتے ہوئے ایک حکومتی بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ ان چینلز کو بھارت کے خلاف اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ طور پر حساس مواد، جھوٹے اور گمراہ کن بیانات اور غلط معلومات پھیلانے کی وجہ سے بلاک کیا گیا ہے۔
یہ پابندی 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیرہونے والے حملے کے بعد لگائی گئی ہے ، حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے جو اس علاقے میں پچھلے 25 سال کا سب سے بدترین حملہ تھا۔
بھارت نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے، تاہم اسلام آباد نے حملے میں کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔
وزارت اطلاعات نے ہفتہ کو ایک مشاورتی نوٹس جاری کیا جس میں صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین سے کہا گیا کہ وہ دفاع اور دیگر سیکیورٹی سے متعلق آپریشنز پر رپورٹ کرتے وقت انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
























Comments
Comments are closed.