BR100 Decreased By (-0.42%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Increased By (0.03%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 26.90 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 10.04 Increased By ▲ 0.16 (1.62%)
DFML 18.29 Increased By ▲ 0.29 (1.61%)
DGKC 203.71 Decreased By ▼ -1.22 (-0.6%)
FABL 99.79 Decreased By ▼ -0.31 (-0.31%)
FCCL 52.89 Decreased By ▼ -0.20 (-0.38%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.24 Increased By ▲ 0.40 (1.61%)
HBL 299.79 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
HUBC 217.26 Increased By ▲ 0.18 (0.08%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.56 Increased By ▲ 0.25 (0.85%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -1.16 (-1.26%)
OGDC 317.01 Increased By ▲ 0.72 (0.23%)
PAEL 41.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.69%)
PIBTL 16.52 Increased By ▲ 0.11 (0.67%)
PIOC 297.59 Decreased By ▼ -2.65 (-0.88%)
PPL 217.50 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
PRL 51.86 Increased By ▲ 1.00 (1.97%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.52 Decreased By ▼ -0.13 (-1.5%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 59.05 Decreased By ▼ -0.21 (-0.35%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.15 (-1.46%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے اور ادائیگیوں میں تاخیر کے نتائج کا تعین بھی صوبائی قوانین کے تحت ہی ہونا چاہیے۔

قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے ٹیکس دہندہ خالد حسین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے زرعی آمدن کے ٹیکس کے معاملے میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 111 اور دفعہ 41 میں دی گئی چھوٹ کی وضاحت کی۔

ٹیکس دہندہ کی جانب سے کیس کی پیروی کراچی سے تعلق رکھنے والی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ رفعت نعیم جان نے کی۔

اس مقدمے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ آیا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے، خاص طور پر جب اسے آئینی طور پر صوبائی معاملہ قرار دیا جا چکا ہے۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو کا مؤقف تھا کہ خالد حسین نے غلط طور پر اپنی آمدن کو زرعی آمدن ظاہر کر کے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کیا، جب کہ ٹیکس دہندہ کا مؤقف تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد زرعی آمدن پر ٹیکس صوبائی حکومت کا اختیار ہے اور ایف بی آر کو اس پر ٹیکس عائد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

ایک اور اہم نکتہ نوٹسز اور اسیسمنٹ کی قانونی حیثیت تھی۔ کمشنر کا مؤقف تھا کہ سیکشن 122(9) کے تحت جاری کردہ نوٹس کافی ہے اور فنانس ایکٹ 2021 کی ترامیم کے بعد دفعہ 111 کے تحت علیحدہ نوٹس کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب، ٹیکس دہندہ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر دفعہ 41 کے تحت دی گئی چھوٹ کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔

یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو نے ایک اسیسمنٹ آرڈر جاری کرتے ہوئے ایک کروڑ ایک لاکھ 54 ہزار 812 روپے کا ٹیکس عائد کیا۔ یہ آرڈر کمشنر اپیل آئی آر نے برقرار رکھا، تاہم اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) نے خالد حسین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔

کمشنر نے اس فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کیا، تاہم عدالت نے سپریم کورٹ (CP 2447-L/2022) اور لاہور ہائی کورٹ (ITR No. 61061 of 2022) کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمشنر کی اپیل مسترد کر دی۔

یہ فیصلہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس صوبائی اختیار ہے، اور تاخیر سے ادائیگی کے نتائج کا تعین بھی صوبائی قوانین کے مطابق ہوگا۔ اس سے ایف بی آر کے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کے اختیارات کو قانونی طور پر چیلنج کیا گیا ہے اور صوبوں کے خصوصی مالیاتی اختیارات کو مزید تقویت ملی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.