جاپانی حکام کے ساتھ ٹیرف پر مذاکرات میں ٹرمپ بھی کود پڑے
- یہ اقدام امریکی صدر کی جانب سے عالمی درآمدات پر محصولات کی بھرمار کے نتیجے میں ہونے والے مذاکرات کی نگرانی کرنے کی خواہش کی عکاسی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بدھ کے روز جاپانی اور امریکی تجارتی حکام کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کریں گے، یہ ایک حیرت انگیز اقدام ہے جو عالمی درآمدات پر محصولات کے اضافے کی وجہ سے شروع ہونے والے مذاکرات کی نگرانی کرنے کی ان کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹوکیو نے مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے اپنے وزیر برائے معاشی بہتری ریوسی اکازاوا کو بھیجا تھا، توقع تھی کہ وہ واشنگٹن میں ٹرمپ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا سامنا کریں گے، وہ پر امید تھے کہ بات چیت کا دائرہ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات تک محدود کر دیا جائے گا۔
تاہم، ٹرمپ نے بدھ کی صبح ہی معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اجلاس میں شریک ہوں گے اور یہ مذاکرات صرف تجارتی معاملات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان میں جاپان میں امریکی افواج کی موجودگی کی لاگت جیسے حساس امور بھی شامل ہوں گے، جو کہ دنیا میں امریکہ کی سب سے بڑی بیرونِ ملک تعیناتی ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جاپان آج ٹیرف، فوجی امداد کی قیمت اور ’ٹریڈ فیئرنیس‘ پر بات چیت کے لیے آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں خزانہ اور تجارت کے سیکرٹریز کے ساتھ اجلاس میں شرکت کروں گا۔ امید ہے کہ کچھ ایسا کیا جا سکتا ہے جو جاپان اور امریکہ کے لئے اچھا (بہت اچھا!) ہے!
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی جاپان کے ساتھ زرمبادلہ کی شرحوں جیسے حساس مسئلے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ جاپان اُن ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ٹرمپ کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں درجنوں ممالک — دوست اور مخالف دونوں — پر عائد کیے گئے وسیع ٹیرف کے بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔
جاپان کو امریکا برآمد کی جانے والی مصنوعات پر 24 فیصد محصولات کا سامنا ہے، حالانکہ یہ شرحیں، ٹرمپ کے بیشتر ٹیرف کی طرح، 90 دن کے لیے معطل کی گئی ہیں۔ تاہم، 10 فیصد عالمی ٹیرف بدستور لاگو ہے، جبکہ گاڑیوں پر 25 فیصد محصول بھی برقرار ہے، جو کہ جاپان کی برآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔
بیسنٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے 75 سے زائد ممالک کی جانب سے مذاکرات کی درخواستوں کے پیش نظر جاپان کو ”پہل کرنے کا فائدہ“ حاصل ہے۔ تاہم، جاپانی وزیرِاعظم شیگیرو اشیبا نے پیر کے روز کہا کہ اُن کا ملک، جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے، کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں جلدبازی نہیں کرے گا اور بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
اشیبا نے فی الحال امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں قائم کنسلٹنسی ”دی ایشیا گروپ“ کے منیجنگ پارٹنر اور سابق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ عہدیدار کرٹ ٹونگ نے کہاکہ جاپانی ٹیم کے لیے مشکل یہ ہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر اپنی جانب سے بہت زیادہ دباؤ کا ماحول پیدا کر لیا ہے۔
کرٹ ٹونگ نے کہا کہ امریکا جاپان کو ’چھڑی‘ سے نہ مارنے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ جاپان کو بدلے میں بہت سی ’گاجریں‘ دینی پڑ رہی ہیں۔ اُن کے نقطہ نظر سے، یہ معاشی جبر کی ایک شکل محسوس ہو رہی ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کے بارے میں شکایت کرتے رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی کاروباری اداروں کو تجارتی طریقوں اور دیگر ممالک کی جانب سے کمزور کرنسیوں کو برقرار رکھنے کی دانستہ کوششوں سے نقصان پہنچا ہے۔
ٹوکیو اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے اپنی ین کرنسی میں ہیرا پھیری کرتا ہے۔
واشنگٹن میں تجارتی شراکت دار
بیسنٹ نے گزشتہ ہفتے ویتنام کے نائب وزیر اعظم سے تجارت پر بات چیت کے لیے ملاقات کی تھی اور جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو آئندہ ہفتے مذاکرات کے لیے واشنگٹن آنے کی دعوت دی تھی۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے جس میں یورپی یونین پر عائد محصولات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بدھ کے روز ہونے والی بات چیت کا مکمل دائرہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
بیسنٹ نے کہا ہے کہ وہ ایسے معاہدے کرنے کی امید کر رہے ہیں جن میں ٹیرف، نان ٹیرف رکاوٹوں اور ایکسچینج ریٹ کا احاطہ کیا جائے گا، حالانکہ ٹوکیو نے ایکسچینج ریٹ کو الگ رکھنے کے لیے لابی کی تھی۔
بیسنٹ نے کہا ہے کہ الاسکا میں اربوں ڈالر کے گیس منصوبے میں ممکنہ جاپانی سرمایہ کاری بھی شامل ہوسکتی ہے۔
جاپان کو امید ہے کہ امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے وعدوں سے امریکہ کو اس بات پر قائل کرنے میں مدد ملے گی کہ دونوں ممالک محصولات کے بغیر ”فائدہ مند“ صورتحال حاصل کرسکتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.