BR100 Decreased By (-0.09%)
BR30 Decreased By (-0.1%)
KSE100 Increased By (0.06%)
KSE30 Increased By (0.04%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 27.05 Increased By ▲ 0.07 (0.26%)
BOP 33.74 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 10.05 Increased By ▲ 0.17 (1.72%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.70 Decreased By ▼ -1.23 (-0.6%)
FABL 99.50 Decreased By ▼ -0.60 (-0.6%)
FCCL 53.21 Increased By ▲ 0.12 (0.23%)
FFL 16.51 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
GGL 25.56 Increased By ▲ 0.72 (2.9%)
HBL 300.50 Increased By ▲ 0.68 (0.23%)
HUBC 217.49 Increased By ▲ 0.41 (0.19%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.28%)
LOTCHEM 29.55 Increased By ▲ 0.24 (0.82%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -0.76 (-0.82%)
OGDC 317.84 Increased By ▲ 1.55 (0.49%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 16.54 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 299.00 Decreased By ▼ -1.24 (-0.41%)
PPL 217.70 Increased By ▲ 0.86 (0.4%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 101.10 Decreased By ▼ -0.62 (-0.61%)
SSGC 26.63 Decreased By ▼ -0.35 (-1.3%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.56 Increased By ▲ 0.17 (1.27%)
TRG 59.19 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
UNITY 10.17 Decreased By ▼ -0.13 (-1.26%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

حکومت نے برآمدات میں پائیدار نمو کیلئے نجی شعبے کو کلیدی شراکت دار قرار دیدیا

  • صنعت کے رہنماؤں کا پائیدار ترقی اور عالمی سطح پر مسابقت کو یقینی بنانے کے لئے شفاف ٹیکس اصول، مسابقتی ٹیکس پالیسی اور طویل مدتی پالیسی کے تسلسل کی ضرورت پر زور
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معیشت میں برآمدات کے پائیدار نمو کو یقینی بنانے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “ہم نجی شعبے کو اس کوشش میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، اور ہماری پالیسیاں اس مشترکہ نقطہ نظر کی عکاسی کرتی رہیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاکستان کی تولیہ کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان، اسپیشل سیکرٹری وزارت تجارت، فنانس ڈویژن، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر افسران کے علاوہ تولیہ انڈسٹری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران تولیے کی صنعت کے نمائندگان نے اس شعبے کی اہمیت، تعاون اور چیلنجز پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چین اور بھارت کے بعد پاکستان تولیہ برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ تولیے کی صنعت پاکستان کا 100 فیصد برآمدات پر مبنی واحد شعبہ ہے جس کی برآمدات دنیا بھر کے 125 ممالک تک پہنچتی ہیں۔

تولیہ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ٹی ایم اے) 200 کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے اور پاکستان کی معیشت میں 1.77 بلین ڈالر کا حصہ ڈالتی ہے۔ امریکا (33.44 فیصد) اور یورپ (30.15 فیصد) پاکستانی تولیہ کی برآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹیں ہیں۔ اس شعبے میں 2.8 ملین کارکن کام کرتے ہیں۔

صنعت کے رہنماؤں نے پائیدار ترقی اور عالمی سطح پر مسابقت کو یقینی بنانے کے لئے شفاف ٹیکس اصول، مسابقتی ٹیکس پالیسی اور طویل مدتی پالیسی کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر خزانہ نے تولیہ کی صنعت کی حمایت کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور شرکاء کو یقین دلایا کہ ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے برآمدات کو آسان بنانے اور عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لئے مستحکم اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کی اہمیت پر زور دیا۔

اجلاس کا اختتام سرکاری اور نجی تعاون کو بڑھانے کے عزم کے ساتھ ہوا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ پاکستان کی تولیہ کی صنعت عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.