BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.12%)
KSE100 No Change (0%)
KSE30 No Change (0%)
BAFL 58.45 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 25.42 Increased By ▲ 0.22 (0.87%)
BOP 34.25 Increased By ▲ 0.26 (0.76%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.47 Increased By ▲ 4.50 (2.33%)
FABL 89.51 Decreased By ▼ -0.28 (-0.31%)
FCCL 53.89 Increased By ▲ 1.06 (2.01%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.80 Increased By ▲ 0.83 (4.38%)
HBL 286.06 Increased By ▲ 0.56 (0.2%)
HUBC 215.40 Increased By ▲ 1.02 (0.48%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.11 Increased By ▲ 0.09 (1.12%)
LOTCHEM 27.44 Decreased By ▼ -0.45 (-1.61%)
MLCF 88.05 Increased By ▲ 1.54 (1.78%)
OGDC 324.56 Increased By ▲ 4.60 (1.44%)
PAEL 39.94 Increased By ▲ 0.52 (1.32%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 275.46 Increased By ▲ 9.40 (3.53%)
PPL 232.78 Increased By ▲ 4.60 (2.02%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.61 Increased By ▲ 0.43 (0.43%)
SSGC 27.17 Increased By ▲ 0.57 (2.14%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.76 Increased By ▲ 0.54 (6.57%)
TRG 71.75 Increased By ▲ 2.04 (2.93%)
UNITY 11.67 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.02 (-1.56%)

وزیرخزانہ کے مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات، خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور حکومت پائیدار ترقی اور طویل مدتی اقتصادی بہتری کے لیے پُرعزم ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے زیر اہتمام نیو ممبر سیریمنی 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

حکومت کی معاشی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اہم معاشی اقدامات پر عمل درآمد میں پاکستان کی پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا گیا ہے اور معاشی اشارے مثبت رجحانات دکھا رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے ٹیکس آمدنی میں اضافے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے جاری کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت مؤثر اور برآمدی شعبے پر مبنی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

سرکاری شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے، انہوں نے بتایا کہ حکومت 43 وفاقی وزارتوں اور 400 سے زائد منسلک اداروں کی تنظیم نو کر رہی ہے، تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور مالی عدم توازن کو کم کیا جا سکے۔ “اب تک 1,50,000 خالی اسامیوں کو ختم کیا جا چکا ہے، جہاں نئی بھرتیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی نجکاری کا عمل جاری ہے جس کا مقصد گورننس اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو معیشت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

اے سی سی اے پاکستان کی پوری ٹیم اور نئے ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے ان کی مالیاتی اور اکاؤنٹنگ شعبے میں کامیابیوں اور خدمات کا اعتراف کیا۔

انہوں نے نوجوان پروفیشنلز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان میں کام کرنے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، “چیلنجز ہر جگہ موجود ہیں، چاہے وہ اندرون ملک ہوں یا بیرون ملک، لیکن جذبے، محنت اور نظم و ضبط کے ساتھ، کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔مزید برآں انہوں نے نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو اس ملک کی قیادت کرنی ہے۔ ان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور پاکستان کو آگے لے جانے کی ذمہ داری بھی انہی پر ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور اس کی معیشت کے بارے میں پرامید اور مثبت رہیں، کیونکہ ان کی کاوشیں ہی ملک کے مستقبل کی شکل طے کریں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.