پی آئی اے نے ایفل ٹاور کے اشتہار پر معافی مانگ لی
- پابندی ختم ہونے کے بعد پیرس کیلئے افتتاحی پرواز کا اشتہار جاری کرنے پر قومی ایئرلائن کو سخت تنقید کا سامنا
پاکستان کی قومی ایئرلائن نے جمعہ کے روز ایک اشتہار پر معذرت کی ہے۔ اشتہار میں ایک طیارے کو ایفل ٹاور کے قریب پرواز کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ اشتہار یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے بعد پیرس کے لیے پہلی پرواز کے آغاز کے موقع پر شائع کیا گیا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصویر میں ایک طیارے کو فرانس کے تاریخی مقام کی جانب پرواز کرتے دکھا گیا ہے جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’پیرس، ہم آج آ رہے ہیں‘۔

آن لائن کیے گئے ہزاروں تبصروں میں صارفین نے اشتہار کا موازنہ 2001 میں نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر القاعدہ کے حملوں سے کیا جس میں 2 طیارے ہائی جیک کیے جانے کے بعد فلک بوس عمارتوں سے ٹکرادیے گئے تھے جس میں تقریبا 3،000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے کچھ منفی جذبات پیدا ہوئے ہوں تاہم اس کیلئے ہم دل سے معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آن لائن تقریبا 60،000 سے 70،000 منفی رد عمل سامنے آئے جو مجموعی مصروفیت سے 10 فیصد بھی کم رہے۔
اشتہار کے نیچے کمنٹ میں ایک صارف نے لکھا کہ یہ دھمکی ہے یا اشتہار ہے۔
ایک اور شخص نے کہا کہ میں اس بارے میں آپ کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ چیف سے بات کروں گا۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس اشتہار کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو ’احمقانہ‘ ہے۔
تاہم عبداللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے کی یورپ واپسی پر ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے اور اب تک پروازیں 95 فیصد سے زائد صلاحیت کے ساتھ آپریٹ کر رہی ہیں۔
قرضوں کے بوجھ تلے دبی پی آئی اے پر جون 2020 میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ اس معاملے سے ایک ماہ قبل اس کا ایک بڑا طیارہ ایئربس اے-320 کراچی کی سڑک پر گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں تقریبا 100 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حادثے کی وجہ پائلٹوں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے انسانی غلطی کو قرار دیا گیا تھا اور اس کے بعد یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ پی آئی اے کے ایک تہائی پائلٹس کے لائسنس جعلی یا مشکوک تھے۔
2016 میں پی آئی اے کا ایک طیارہ اس وقت آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا جب اس کے دو ٹربوپروپ انجنوں میں سے ایک دور دراز شمالی علاقے سے اسلام آباد جانے والی پرواز کے دوران فیل ہو گیا تھا۔ واقعے میں 40 سے جاں بحق ہوئے۔
نومبر میں یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یہ پابندی اٹھا لی ہے تاہم اس پر برطانیہ اور امریکہ میں پروازوں پر پابندی برقرار ہے۔
یورپی ایجنسی نے اس وقت کہا تھا کہ اس کا اعتماد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی نگرانی کی صلاحیتوں بحال ہوگیا ہے
ایئرلائن پاکستان کے مختلف شہروں تک پروازوں کی سہولیات فراہم کرتی ہے جن میں پہاڑی اور شمالی علاقہ جات بھھی شامل ہیں۔نیز یہ خلیج اور جنوب مشرقی ایشیا تک بھی پروازیں فراہم کرتی ہے۔
























Comments
Comments are closed.