امریکہ کے خصوصی وکیل جیک اسمتھ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں شکست کے باوجود اقتدار میں رہنے کے لیے ’غیر معمولی مجرمانہ کوشش‘ کی تھی لیکن نومبر میں ہوئے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد انہیں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں اسمتھ کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف 4 الزامات پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کی تفصیل جاری کی گئی ہے، جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ 2020 میں ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کے بعد ووٹوں کی وصولی اور تصدیق میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کر رہے تھے۔
رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ شواہد ٹرمپ کو مقدمے میں سزا دینے کے لیے کافی ہوتے لیکن 20 جنوری کو دوبارہ صدر بننے کی وجہ سے انہیں سزا دینا ممکن نہیں رہا۔
ٹرمپ کی جانب سے مسلسل تنقید کا سامنا کرنے والے اسمتھ نے اپنی تحقیقات اور اس پر کام کرنے والے پراسیکیوٹرز کا بھی دفاع کیا۔
اسمتھ نے اپنی رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک خط میں لکھا کہ ’مسٹر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ بطور پراسیکیوٹر میرے فیصلے بائیڈن انتظامیہ یا دیگر سیاسی شخصیات کے زیر اثر یا ہدایت پر تھے، ایک لفظ میں کہا جائے تو یہ ”مضحکہ خیز“ ہے۔
رہائی کے بعد ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں اسمتھ کو ’کمزور دماغ کا پراسیکیوٹر‘ قرار دیا تھا جو انتخابات سے قبل اپنے کیس کی سماعت کرانے میں ناکام رہا تھا۔
ٹرمپ کے وکلا نے اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ کو لکھے گئے خط ، جو وزارتِ انصاف نے عوامی طور پر جاری کیا گیا، میں اس رپورٹ کو ’سیاسی محرکات پر مبنی حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے قبل اسے جاری کرنے سے نومنتخب صدر کو اقتدار کی منتقلی کا عمل متاثر ہوگا۔
رپورٹ میں جن شواہد کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر پہلے بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔
لیکن اس میں کچھ نئی تفصیلات شامل ہیں، جیسے کہ استغاثہ نے ٹرمپ پر 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملے کے لئے اکسانے کا الزام ایک امریکی قانون کے تحت عائد کرنے پر غور کیا جسے بغاوت ایکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
استغاثہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اس طرح کے الزامات سے قانونی خطرات پیدا ہوتے ہیں اور اس بات کے ناکافی ثبوت موجود ہیں کہ ٹرمپ فسادات کے دوران بھرپور تشدد کا ارادہ رکھتے تھے، جو ان کے حامیوں کے ہجوم کی طرف سے کانگریس کو 2020 کے انتخابات کی تصدیق کرنے سے روکنے کی ناکام کوشش تھی۔
فرد جرم میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کی تصدیق میں رکاوٹ پیدا کرنے، امریکہ کے درست انتخابی نتائج میں دھاندلی کرنے اور امریکی ووٹرز کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سازش کر رہے تھے۔
جیک اسمتھ کے دفتر نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ٹرمپ کی مدد کرنے کے الزام میں کچھ شریک سازشی عنآصر کے خلاف الزامات کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا۔
اس سے قبل ٹرمپ کے کئی سابق وکلاء کو فرد جرم میں شریک سازشی کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے دوسرے حصے میں اسمتھ کے کیس کی تفصیل دی گئی ہے جس میں ٹرمپ پر 2021 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد غیر قانونی طور پر قومی سلامتی کی حساس دستاویزات رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
محکمہ انصاف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حصے کو عام نہیں کرے گا جبکہ اس معاملے میں ٹرمپ کے دو ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
گزشتہ ہفتے محکمہ انصاف چھوڑنے والے اسمتھ نے پچھلے برس انتخابات جیتنے کے بعد ٹرمپ کے خلاف دونوں مقدمات واپس لے لیے تھے اور انہوں نے محکمہ انصاف کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کے خلاف طویل عرصے سے جاری پالیسی کا حوالہ دیا تھا۔ دونوں میں سے کوئی بھی مقدمے تک نہیں پہنچا۔
ٹرمپ نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ باقاعدگی سے اسمتھ کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے ان مقدمات کو اپنی انتخابی مہم اور سیاسی تحریک کو نقصان پہنچانے کی سیاسی محرکات پر مبنی کوششوں کے طور پر پیش کیا۔
ٹرمپ اور ان کے دو سابق شریک مدعا علیہان نے خفیہ دستاویزات کیس میں رپورٹ کے اجراء کو روکنے کی کوشش کی تھی، اس سے چند روز قبل کہ ٹرمپ 20 جنوری کو عہدے پر واپس آئیں گے۔ عدالتوں نے اس کی اشاعت کو مکمل طور پر روکنے کے لئے ان کے مطالبات کو مسترد کردیا۔
دستاویزات کیس کی سماعت کرنے والی امریکی ڈسٹرکٹ جج ایلین کینن نے محکمہ انصاف کو حکم دیا ہے کہ وہ کانگریس کے کچھ سینئر ارکان کو رپورٹ کے دستاویزات سیکشن کا نجی طور پر جائزہ لینے کی اجازت دینے کے منصوبوں کو فی الحال روک دے۔
استغاثہ نے گزشتہ عدالتی درخواستوں میں ٹرمپ کے خلاف اپنے کیس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ 2022 میں کانگریس کے ایک پینل نے 2020 کے انتخابات کے بعد ٹرمپ کے اقدامات کے بارے میں اپنے 700 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی تھی۔
دونوں تحقیقات اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے جھوٹے دعوے پھیلائے اور ریاستی قانون سازوں پر ووٹ کی تصدیق نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، اور بالآخر، ٹرمپ کو ووٹ دینے کا وعدہ کرنے والے رائے دہندگان کے جعلی گروہوں کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی، جو کانگریس کو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کرنے سے روکنا چاہتے تھے۔
اس کوشش کا اختتام 6 جنوری 2021 کو یو ایس کیپیٹل پر حملے میں ہوا جب ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے قانون سازوں کو ووٹ کی تصدیق کرنے سے روکنے کی ناکام کوشش میں کانگریس پر دھاوا بول دیا۔
اسمتھ کے کیس کو ٹرمپ کی انتخابات میں کامیابی سے پہلے ہی قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسے کئی ماہ تک روک دیا گیا تھا جبکہ ٹرمپ نے اپنے اس دعوے پر زور دیا تھا کہ صدر کی حیثیت سے کیے گئے سرکاری اقدامات پر ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت نے بڑی حد تک ان کا ساتھ دیا اور سابق صدور کو فوجداری مقدمے سے وسیع استثنیٰ دیا۔




























Comments
Comments are closed.