BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.4%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 58.17 Increased By ▲ 0.48 (0.83%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.49 Increased By ▲ 0.10 (0.3%)
CNERGY 10.74 Increased By ▲ 0.13 (1.23%)
DFML 17.78 Increased By ▲ 0.03 (0.17%)
DGKC 207.31 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
FABL 100.36 Increased By ▲ 0.54 (0.54%)
FCCL 54.18 Increased By ▲ 0.12 (0.22%)
FFL 16.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 22.91 Decreased By ▼ -0.88 (-3.7%)
HBL 303.67 Increased By ▲ 2.37 (0.79%)
HUBC 217.12 Decreased By ▼ -0.10 (-0.05%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.19 (1.82%)
KEL 7.18 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
LOTCHEM 26.97 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
MLCF 94.87 Decreased By ▼ -0.72 (-0.75%)
OGDC 314.04 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 42.27 Increased By ▲ 0.15 (0.36%)
PIBTL 17.04 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 269.45 Decreased By ▼ -0.40 (-0.15%)
PPL 216.21 Increased By ▲ 1.06 (0.49%)
PRL 60.14 Increased By ▲ 3.51 (6.2%)
SNGP 102.89 Increased By ▲ 1.97 (1.95%)
SSGC 25.28 Increased By ▲ 0.10 (0.4%)
TELE 8.25 Decreased By ▼ -0.06 (-0.72%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.64 (5.03%)
TRG 60.85 Decreased By ▼ -0.95 (-1.54%)
UNITY 9.96 Decreased By ▼ -0.07 (-0.7%)
WTL 1.19 No Change ▼ 0.00 (0%)

بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ نئی دہلی نے چین کی جانب سے تبت میں دریائے یارلنگ زنگبو پر ہائیڈرو پاور ڈیم تعمیر کرنے کے منصوبے سے متعلق بیجنگ کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ تبت میں پن بجلی کے منصوبوں سے آب و ہوا یا پانی کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لیکن اس کے باوجود بھارت اور بنگلہ دیش نے ڈیم کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یارلنگ زانگبو دریا تبت سے نکل کر بھارت کی ریاست اروناچل پردیش اور آسام میں بہتا ہے، اور آخرکار بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے، جہاں یہ برہمپتر دریا بن جاتا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ برہمپتر دریا کے نشیبی علاقوں میں سرگرمیوں سے نشیبی ریاستوں کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نگرانی اور ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔

جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی نے گزشتہ ماہ بیجنگ کیخلاف دو نئے اضلاع کے قیام پر ”شدید احتجاج“ بھی ریکارڈ کرایا تھا – ان اضلاع میں ایک متنازع علاقہ بھی شامل ہے جس پر بھارت ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کے قیام سے نہ تو اس علاقے پر ہماری خودمختاری کے بارے میں ہندوستان کے دیرینہ اور مستقل موقف پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی چین کے غیر قانونی اور جبری قبضے کو قانونی حیثیت ملے گی۔

بھارت اور چین کے درمیان تعلقات 2020 میں متنازع سرحد پر فوجی تصادم کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اکتوبر میں مغربی ہمالیہ میں 2 کشیدہ مقامات سے فوجیوں کو واپس بلانے کے معاہدے کے بعد سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

معاہدے کے بعد دونوں افواج پیچھے ہٹ گئی ہیں اور سینئر حکام نے گزشتہ ماہ پانچ سال میں پہلی بار باضابطہ بات چیت کی تھی جہاں انہوں نے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا تھا۔

Comments

Comments are closed.