BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Decreased By (-0.04%)
KSE100 Increased By (0.02%)
KSE30 Increased By (0.02%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.33 (0.58%)
BIPL 24.90 Increased By ▲ 0.27 (1.1%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.99 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.93 (5.32%)
DGKC 186.60 Decreased By ▼ -0.62 (-0.33%)
FABL 93.71 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 51.70 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 304.01 Increased By ▲ 0.23 (0.08%)
HUBC 198.60 Decreased By ▼ -0.36 (-0.18%)
HUMNL 9.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.08 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 91.35 Increased By ▲ 0.12 (0.13%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 35.49 Increased By ▲ 0.25 (0.71%)
PIBTL 14.76 Increased By ▲ 0.05 (0.34%)
PIOC 239.84 Increased By ▲ 0.22 (0.09%)
PPL 220.60 Decreased By ▼ -0.76 (-0.34%)
PRL 91.80 Increased By ▲ 0.58 (0.64%)
SNGP 90.71 Decreased By ▼ -0.16 (-0.18%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.65 Increased By ▲ 0.04 (0.53%)
TPLP 12.70 Increased By ▲ 0.14 (1.11%)
TRG 55.90 Increased By ▲ 0.11 (0.2%)
UNITY 8.02 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

معروف پاکستانی بزنس مین اور ایک انڈیپینڈنٹ پاور پلانٹ (آئی پی پی) کے مالک شاہد عبداللہ کو جمعہ کی صبح ایک نجی ائرلائن کے ذریعے بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔

ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سفائر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ (ایس ای سی ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شاہد عبداللہ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور سے دبئی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جا رہے تھے۔ تاہم ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہونے کی وجہ سے انہیں امیگریشن ڈیسک پر روک دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) نے شاہد عبداللہ کے خلاف منی لانڈرنگ میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام پر تحقیقات شروع کی تھیں۔

یہ رپورٹ درج ہونے تک یہ واضح نہیں ہے کہ عبداللہ فی الحال حراست میں ہیں یا انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب چند دن پہلے شاہد عبداللہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھ کر آئی پی پیز اور حکومت کی ٹاسک فورس برائے توانائی کے درمیان جاری مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وزیرِاعظم کو لکھے گئے اپنے خط میں شاہد عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ یہ چوتھی بار ہے کہ خودمختار پاور معاہدوں کو زبردستی دوبارہ مذاکرات کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے حکومت کو پیشکش کی کہ اگر ان کی تجاویز کو تسلیم کیا جائے تو خودمختار معاہدوں کو ختم کرنے اور کیپیسٹی پیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ یہ ٹاسک فورس برائے توانائی کے دعوے کے برعکس ہے کہ تمام معاملات باہمی رضامندی سے طے ہورہے ہیں۔

پاکستانی حکومت مالی مشکلات سے نمٹنے اور توانائی شعبے کو بہتر بنانے کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنے یا انہیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔

Comments

Comments are closed.