BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.68%)
KSE100 Increased By (0.98%)
KSE30 Increased By (1.06%)
BAFL 59.16 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
BIPL 27.26 Increased By ▲ 0.20 (0.74%)
BOP 36.00 Increased By ▲ 1.25 (3.6%)
CNERGY 11.25 Increased By ▲ 0.19 (1.72%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
DGKC 220.19 Increased By ▲ 3.20 (1.47%)
FABL 100.55 Decreased By ▼ -1.79 (-1.75%)
FCCL 56.88 Increased By ▲ 0.46 (0.82%)
FFL 16.51 Increased By ▲ 0.10 (0.61%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.09 (0.38%)
HBL 325.60 Increased By ▲ 3.56 (1.11%)
HUBC 223.58 Increased By ▲ 2.06 (0.93%)
HUMNL 10.75 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 27.20 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 103.09 Increased By ▲ 5.15 (5.26%)
OGDC 318.49 Increased By ▲ 2.19 (0.69%)
PAEL 44.38 Increased By ▲ 2.08 (4.92%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.12 (0.72%)
PIOC 275.86 Increased By ▲ 6.48 (2.41%)
PPL 222.48 Increased By ▲ 1.79 (0.81%)
PRL 63.81 Increased By ▲ 0.16 (0.25%)
SNGP 104.91 Decreased By ▼ -1.33 (-1.25%)
SSGC 27.25 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
TELE 8.81 Increased By ▲ 0.08 (0.92%)
TPLP 14.97 Increased By ▲ 0.19 (1.29%)
TRG 62.37 Increased By ▲ 0.96 (1.56%)
UNITY 11.90 Increased By ▲ 0.76 (6.82%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.02 (-1.61%)

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز جلاوطن سابق رہنما شیخ حسینہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ حسینہ واجد اگست میں طلبہ کی قیادت میں انقلاب کے ذریعے اقتدار کھونے کے بعد بھارت بھاگ گئی تھیں۔

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر محمد تاجل اسلام نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی گرفتاری اور انہیں 18 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں جن میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ان کے سیاسی مخالفین کے ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

تاجل اسلام نے اسے ایک قابل ذکر دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ جولائی سے اگست کے دوران قتل عام، قتل و غارت اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی قیادت کر رہی تھیں۔

77 سالہ حسینہ بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئیں اور ان کا آخری ٹھکانہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے قریب ایک فوجی اڈہ ہے۔

بھارت میں ان کی موجودگی نے بنگلہ دیش کو مشتعل کر دیا ہے۔

ڈھاکہ میں حکام نے ان کا سفارتی پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان حوالگی کا دو طرفہ معاہدہ ہے جس کے تحت وہ مجرمانہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس آ سکتی ہیں۔

تاہم معاہدے کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ اگر جرم ’سیاسی نوعیت‘ کا ہو تو حوالگی سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

حسینہ واجد کی حکومت نے 2010 میں پاکستان سے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے انتہائی متنازعہ آئی سی ٹی تشکیل دیا تھا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کے طریقہ کار کی خامیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لئے حسینہ واجد کے ذریعہ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

حسینہ واجد کیخلاف مظاہرین کے بڑے پیمانے پر قتل عام کے الزامات کے سبب متعدد مقدمات قائم ہیں جس کی عدالتی تحقیقات جاری ہیں۔

Comments

Comments are closed.