BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.1%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.73 Decreased By ▼ -0.02 (-0.06%)
CNERGY 10.09 Increased By ▲ 0.21 (2.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.85 Decreased By ▼ -1.08 (-0.53%)
FABL 99.94 Decreased By ▼ -0.16 (-0.16%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.51 (0.96%)
FFL 16.55 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
GGL 25.46 Increased By ▲ 0.62 (2.5%)
HBL 300.38 Increased By ▲ 0.56 (0.19%)
HUBC 217.69 Increased By ▲ 0.61 (0.28%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 29.64 Increased By ▲ 0.33 (1.13%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -0.76 (-0.82%)
OGDC 317.88 Increased By ▲ 1.59 (0.5%)
PAEL 42.09 Increased By ▲ 0.05 (0.12%)
PIBTL 16.55 Increased By ▲ 0.14 (0.85%)
PIOC 297.99 Decreased By ▼ -2.25 (-0.75%)
PPL 218.05 Increased By ▲ 1.21 (0.56%)
PRL 52.09 Increased By ▲ 1.23 (2.42%)
SNGP 101.15 Decreased By ▼ -0.57 (-0.56%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.57 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
TPLP 13.57 Increased By ▲ 0.18 (1.34%)
TRG 59.24 Decreased By ▼ -0.02 (-0.03%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.16 (-1.55%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

لاہور ہائی کورٹ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ٹیکس ریفنڈ کیسز میں طلب کیے گئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے روک دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے کو ایف بی آر افسران کے خلاف کسی قسم کی سخت کارروائی سے روک دیا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے ایکٹ کے شیڈول کے تحت آنے والے جرائم کے حوالے سے ایف آئی اے ایکٹ کے تحت انکوائری اور تحقیقات کی جائیں گی۔

شیڈول ایکٹ میں نہ تو انکم ٹیکس آرڈیننس اور نہ ہی سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 درج ہیں۔

لہٰذا ایف آئی اے کے پاس بڑی کمپنیوں کو ریفنڈ کے حوالے سے انکوائری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 216 کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کو محکمے کا ریکارڈ ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے بڑی کمپنیوں کو جاری کیے گئے ریفنڈ میں ممبر آئی آر آپریشنز سمیت ایف بی آر افسران کو طلب کیا تھا۔ حال ہی میں اس ریفنڈ کیس میں اسپیڈ منی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ایف بی آر نے افسران کو معطل کر دیا تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.