BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

مالی خسارے کی فنانسنگ کیلئے ملکی ذرائع سے77 فیصد قرضہ لیا گیا ، وزارت خزانہ

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مالیاتی خسارے کو ملکی ذرائع سے پورا کرنے کے لئے تقریبا 77 فیصد قرض لیا ۔ وزارت خزانہ...
شائع اپ ڈیٹ

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مالیاتی خسارے کو ملکی ذرائع سے پورا کرنے کے لئے تقریبا 77 فیصد قرض لیا ۔

وزارت خزانہ کی مالی سال 2023-24 کی وسط سالہ جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ رپورٹ میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بجٹ اور اصل محصولات، اخراجات اور فنانسنگ کا وسط سال موازنہ پیش کیا گیا ۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں سود کے اخراجات تقریبا 4.2 ٹریلین روپے رہے جس میں سے ملکی قرضوں پر سود 88 فیصد تھا۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بڑھتے ہوئے مارک اپ ادائیگیوں کی وجہ سے وفاقی حکومت کے اخراجات 58 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ہزار 710 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ گزشہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 4 ہزار 247.7 ارب روپے تھے۔ رپورٹ میں موجود مالیاتی اور دیگر اعداد و شمار مالی سال کے اختتام پر مصالحت سے مشروط ہیں۔

دسمبر 2023 کے آخر تک مقامی قرضوں کی ساخت پی آئی بی 60 فیصد، ٹی بل 20 فیصد، اجارہ سکوک 10 فیصد اور این ایس ایس/ دیگر 10 فیصد ہے۔ دسمبر 2023 کے اختتام تک بیرونی قرضوں کی ساخت 53 فیصد دو طرفہ 31 فیصد، سرکاری یورو بانڈز 9 فیصد اور کمرشل/دیگر 7 فیصد ہے۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق این ایس ایس کا بہاؤ کم رہا ۔ حکومت نے قلیل مدتی ٹی بلز کو تقریباً 1 ٹریلین روپے سے ریٹائر کیا اور 1.2 ٹریلین روپے کی میچورٹی کے مقابلے میں فکسڈ ریٹ پی آئی بیز کا مجموعی اجراء 840 بلین روپے تھا جبکہ فلوٹنگ ریٹ پی آئی بیز کا مجموعی اجراء 2 ٹریلین روپے کی ادائیگی کے مقابلے میں 5 ٹریلین روپے تھا۔

سرکاری اجارہ سکوک کا مجموعی اجراء بغیر کسی مدت کے 1.3 ٹریلین روپے تھا اور پی ایس ایکس پر پہلی اجارہ سکوک (ایک سالہ فکسڈ ریٹ اجارہ سکوک) نیلامی سے کامیابی کے ساتھ 30 ارب روپے جمع کیے گئے۔شراکت داری 478 بلین روپے رہی جس میں 90 فیصد حصہ غیر بینکنگ سیکٹر کا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی بجٹ کی تقسیم 5.4 ارب ڈالر رہی جس میں کثیر الجہتی 2.2 ارب ڈالر، دوطرفہ 2.7 ارب ڈالر اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ سے 0.5 ارب ڈالر شامل ہیں۔ بیرونی بجٹ کی ادائیگیاں 3.3 بلین امریکی ڈالر تھیں۔

مزید برآں، 1 بلین امریکی ڈالر چائنا سیف ڈپازٹ اور 3 بلین امریکی ڈالر سعودی عرب کے ذخائر بالترتیب جولائی اور دسمبر 2023 میں ایک سال کے لیے رول اوور کیے گئے، اس کے علاوہ آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی انتظامات کے تحت 1.2 ارب ڈالر اور ادائیگیوں کے توازن کی معاونت کے لیے متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹ کی مد میں ایک ارب ڈالر موصول ہوئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.