BR100 Decreased By (-1.11%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.92%)
KSE30 Decreased By (-1.06%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.09 (-0.16%)
BIPL 26.99 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.88 Decreased By ▼ -0.15 (-0.44%)
CNERGY 9.87 Decreased By ▼ -0.09 (-0.9%)
DFML 18.11 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
DGKC 204.01 Decreased By ▼ -2.50 (-1.21%)
FABL 100.00 Decreased By ▼ -0.46 (-0.46%)
FCCL 53.10 Decreased By ▼ -1.60 (-2.93%)
FFL 16.55 Decreased By ▼ -0.14 (-0.84%)
GGL 24.90 Increased By ▲ 0.11 (0.44%)
HBL 298.50 Decreased By ▼ -3.85 (-1.27%)
HUBC 217.27 Decreased By ▼ -2.11 (-0.96%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.20 (1.92%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.12 (-1.62%)
LOTCHEM 29.04 Decreased By ▼ -0.28 (-0.95%)
MLCF 91.81 Decreased By ▼ -2.55 (-2.7%)
OGDC 314.35 Decreased By ▼ -1.49 (-0.47%)
PAEL 42.10 Decreased By ▼ -1.10 (-2.55%)
PIBTL 16.46 Decreased By ▼ -0.28 (-1.67%)
PIOC 303.50 Increased By ▲ 6.40 (2.15%)
PPL 216.98 Decreased By ▼ -2.80 (-1.27%)
PRL 50.50 Increased By ▲ 1.31 (2.66%)
SNGP 101.39 Decreased By ▼ -3.51 (-3.35%)
SSGC 27.00 Decreased By ▼ -1.25 (-4.42%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.14 (-1.59%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.13 (0.98%)
TRG 59.70 Decreased By ▼ -0.44 (-0.73%)
UNITY 10.27 Decreased By ▼ -0.16 (-1.53%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.02 (-1.59%)
پاکستان

سی پی پی اے ۔ جی کے ساتھ ادائیگیوں کا مسئلہ: شنگھائی الیکٹرک نے وزیراعظم کو شکایت کردی

چینی پاور فرم شنگھائی الیکٹرک نے بروقت ادائیگی نہ کرنے پرمبینہ طورپر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹیڈ( سی پی پی اے...
شائع اپ ڈیٹ

چینی پاور فرم شنگھائی الیکٹرک نے بروقت ادائیگی نہ کرنے پرمبینہ طورپر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹیڈ( سی پی پی اے ۔ جی) کیخلاف شکایت درج کرادی۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ چینی پاور فرم شنگھائی الیکٹرک نے مبینہ طورپرسنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹیڈ( سی پی پی اے ۔ جی) کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ کرنے پروزیراعظم کو شکایت کردی ہے ۔

ذرائع کے مطابق میسرز تھر کول بلاک -1 پاور جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کو مطلع کیا ہے کہ کمپنی نے 5 فروری 2023 کو کمرشل آپریشن کی تاریخ (سی او ڈی) حاصل کرلی ہے، تاہم اسے سی پی پی اے ۔ جی کی جانب سے غیرموثر ادائیگیوں کی وجہ سے کیش فلو کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

چینی فرم کے مطابق جب سے کمرشل آپریشن کی تاریخ حاصل کی ہے ، ہمیں سی پی پی اے ۔ جی کی جانب سے غیر موثر ادائیگی کی وجہ سے سی پیک کے توانائی کے دیگر منصوبوں کے مقابلے میں کیش فلو کے شدید مسائل کا سامنا ہے جن کی اوسط وصولی کی شرح تقریباً 85 فیصد ہے۔

کمپنی کے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے ژانگ ژین نے سیکرٹری ایس آئی ایف سی جمیل قریشی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیرف ادائیگی کی وصولی کی شرح اوسط سطح سے بہت کم یعنی صرف 67 فیصد ہے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 74 ارب روپے سے زائد کی واجب الادا رقم ہے جو کہ صرف ایک سال کے لیے بہت زیادہ ہے۔

میسرز تھر کول بلاک-1 پاور جنریشن کمپنی کے مطابق سی پی پی اے ۔ جی کی جانب سے واجب الادا ادائیگی میں تاخیر کے نتیجے میں کمپنی کے کیش فلو کا اس کے پروجیکٹ کے معمول کے کاموں پر شدید منفی اثر پڑا ہے۔

چینی کمپنی نے مزید کہا کہ اس کے پاور پلانٹ کی سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی نمایاں کارکردگی اور گزشتہ سال اکنامک میرٹ آرڈر (ای ایم او) کی درجہ بندی کے فوائد کو دیکھتے ہوئے اس نے سی پی پی اے ۔ جی سے درخواست کی کہ وہ اس منصوبے کو سب سے زیادہ ترجیح دے اور واجب الادا بیلنس کا بوجھ چھوڑنے کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کا خصوصی انتظام کرے۔

ذرائع کے مطابق ایس آئی ایف سی نے سی پی پی اے ۔ جی کو معاملہ خوش اسلوبی سے طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

17 اپریل 2024 کو شنگھائی الکرک گروپ کے ایک وفد نے شنگھائی الکرک گروپ کے چیئرمین وو لی کی قیادت میں وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی جس میں سی پی پی اے۔جی کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس موقع پر وزیراعظم نے معاہدے کے مطابق کمپنی کی واجب الادا رقم کی ادائیگی کی ہدایت کی ہے ۔

وزیراعظم نے شنگھائی الیکٹرک گروپ کو پاکستان میں درآمدی کوئلے پر مبنی پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے اور کوئلے کی کان کنی کے منصوبوں کو مزید وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی۔

وزیراعظم نے چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو موجودہ منصوبوں کو مزید وسعت دینے کے لیے تمام سہولتیں فراہم کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر ،2024

Comments

Comments are closed.